Tuesday, 14 July 2015
اے میرے رب
رب سے باتیں
اے میرے رب میری فریاد سُن کیونکہ تو سب سے بہتر جاننے والا، سُننے والا اور دیکھنے والا ہے، اے مالکِ ارض و سما میں اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر تجھ سے عاجزی سے عرض کرتا ہوں کی میں نے اُن کانوں سے جو تو نے مجھے عطاء کئے ہیں سُنا اور اُن آنکھوں سے جو تو نے عطاء کی ہیں دیکھا اور اُس علم سے جو تو نے مجھے عطاء کیا ہے جانا کہ لوگوں کو اِس فانی دُنیا کی کشش نے اپنی طرف کھینچا اور وہ شیطان کی دوستی میں اندھے ہوگئے اور اُن کو کثرت کی خواہش نے غفلت میں ڈال دیا اور اِس غلفت کو اُنہوں نے ترقی کا نام دے ڈالا اور اے میرے پاک پروردگار میں اپنے کانوں سے سُنتا ہوں، اپنی کھلی ہوئی آنکھوں سے دیکھتا ہوں ، اور اُس علم سے جو تو نے مجھے عطاء کیا ہے جانتا ہوں کہ لوگ ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں اور قہقے لگاتے ہیں وہ معصوم لوگوں کے گلے کاٹتے ہیں اور افسوس خود کو مسلمان کہتے ہیں، بم سے خود کو پھاڑتے ہیں خود بھی مرتے ہیں اور لوگوں کو بھی مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم سے بہتر انسان کوئی نہیں
وہ اپنے مخالفین کی ٹارگٹ کلنگ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم حق پرست ہیں، فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم سے بڑا مسلمان کوئی نہیں، سیاسی مخالفین ،سیاسی اور مذہبی کارکنوں پولیس کے ہاتھوں کھلے عام قتل کرواتے ہیں اور مونچھوں پر تائو دیتے ہوئے دندناتے پھرتے ہیں اور ٹی وی ٹاک شوز اور میڈیا میں دیدہ دلیری سے جھوٹ بولتے ہیں، قانون اُن کے سامنے بے بس نظر آتا ہے، میرے مالک یہ وہی لوگ ہیں جن کو کثرت کی خواہش نے غفلت میں رکھا ہے اور شاید اِن کے لئے دُنیا ہی سب کچھ ہے شاید یہ تیری یہ آیت بھول گئے ہیں کہ تم کو کثرت کی خواہش نے غفلت میں رکھا یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں اے میرے رب، اے میرے رب یہ آنکھیں رکھتے ہیں لیکن دیکھتے نہیں ہیں اور ظلم کرتے ہیں، زبان رکھتے ہیں لیکن ظُلم پرچُپ رہتے ہیں کیونکہ قدموں کے نشان اِن کی طرف جاتے ہیں، کان رکھتے ہیں لیکن سُنتے نہیں ہیں کیونکہ اِن کے کان سچ سُننا پسند نہیں ہے شاید یہ اندھے، گونگے اور بہرے ہیں اے میرے پاک پروردگا مجھے صرف اتنا بتا دے کہ وہ لوگ کو نیک رہنا چاہتے ہیں اور تیرے راستے پر چلنا چاہتے ہیں ایسی دُنیا میں کہاں جائیں وہ تعداد میں بہت تھوڑے ہیں اور بہت کمزور ہیں اے میرے خدا میری فریاد سُن، میری التجا سُن کہ نیک لوگوں کو طاقت عطاء کر اور انہیں قوت دے کہ وہ اپنی نیکی کو قائم رکھ سکیں۔ اے میرے رب دیکھ یہ دُنیا ظلم و جور سے بھر گئی ہے میں ہاتھ جوڑ کرتجھ التجا کرتا ہوں بس اپنی تلوار کو بھیج تاکہ وہ دنیا کے ظالموں کا سر قلم کرے اور دنیا کو عدل سے بھر دے۔
اے میرے پاک پروردگار میں اپنے کانوں سے سُنتا ہوں، اپنی کھلی ہوئی آنکھوں سے دیکھتا ہوں ، اور اُس علم سے جو تو نے مجھے عطاء کیا ہے جانتا ہوں کہ لوگوں کو کثرت کی خواہش نے اس قدر غفلت میں رکھا کہ انہوں نے اِس دنیا کو حاصل کرنے کے لئے رشوت کا وہ بازار گرم کیا کہ کوئی کام رشوت اور کمیشن کے بغیر نہیں ہوتا اے ربِ ذُوالجال یہ ایک تلخ حقیقت اور کڑوی سچائی ہے کہ اس دنیا کے حمام میں سب ننگے نظر آتے ہیں افسوس بڑا آدمی بڑا ہاتھ مار رہا ہے اور چھوٹا ادمی چھوٹا ہاتھ مار رہا ہے کیونکہ ہر کوئی ترقی کرنا چاہتا ہے اِس لئے کوئی قاعدہ کوئی قانون نہیں ہے اے میرے مالک، اے میرے رب میں کس دل سے تجھ سے عرض کروں کہ ہر طرف جنگل کا قانون ہے اگر آپ کی جیب میں پیسہ ہے تو آپ کے لئے ہر کام آسان ہے اور ہر غلط کام صحیح ہے اور اگر آپ کی جیب خالی ہے تو پھر آپ کا ہر جائز اور صحیح کام غلط ہے اے میرے رب، اے میرے رب اُن لوگوں کو جو نیک رہنا چاہتے ہیں اور تیرے راستے پر چلنا چاہتے ہیں بتا وہ کیا کریں کیونکہ وہ تعداد میں بہت تھوڑے ہیں اور دُنیا میں اکثریت کا قانون چلتا ہے میرے مالک مجھے بتا کیا وہ کسی پہاڑ سے چھلانگ لگادیں، یا زہر کھا کر مر جائیں، یا کسی سمندر میں چھلانگ لگا کر اپنی زندگی ختم کرلیں، یا اپنے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلیں لیکن افسوس وہ نیک لوگ کیا کریں کیونکہ تُو نے خودکشی کو حرام قرار دے رکھا ہے راستباز رشوت اور کمیشن نہیں دینا چاہتے لیکن بے بس اور مجبور ہیں اگر رشوت اور کمیشن نہ دیں تو پھر زندگی اُن کے لئے تلخ ہے اور اُن کا جینا محال ہے اِس دنُیا کی اکثریت نے اُن کے لئے کوئی راستہ نہیں چھوڑا ہے اور اے میرے مالک تُو نے خودکشی کو حرام قرار دے کر اُن کا راستہ بند کر دیا ہے اے میرے پاک پروردگار میں ہاتھ جوڑ کر تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ اُن لوگوں کی آواز پر کان لگا، ان لوگوں کی پُکار کو سُن جو نیک رہنا چاہتے ہیں اور سچائی کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں اے ربِ کریم دیکھ یہ دُنیا ظلم و جور سے بھر گئی ہے اب بس کر نیک لوگ انتظار کرتے کرتے اور صبر کرتے کرتے تھک سے گئے ہیں اب بس کر اور اپنی تلوار کو نازل فرما تاکہ ظلم کا خاتمہ ہو اور یہ دُنیا عدل سے بھر جائے مالک نیک اورسیدھے راستے پر چلنے والون کی التجا اور فریاد سُن اور اب دیر مت کر کیونکہ اس دُنیا میں نیکی آٹے میں نمک کے برار رہ گئی ہے اور لوگ گناہ ثواب سمجھ کر کرتے ہیں۔
اے میرے پاک پروردگار میں اپنے کانوں سے سُنتا ہوں، اپنی کھلی ہوئی آنکھوں سے دیکھتا ہوں ، اور اُس علم سے جو تو نے مجھے عطاء کیا ہے جانتا ہوں کہ لوگوں کو کثرت کی خواہش نے اس قدر غفلت میں رکھا کہ انہوں نے اِس دنیا کو حاصل کرنے کے لئےاے میرے ربِ عظیم ہر کسی نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے اے عرش کے مالک اے کائنات کے مالک میں انتہائی افسوس اور دُکھی دِل کے ساتھ یہ کڑوی اور تلخ سچائی تیرے حضور پیش کر رہا ہوں جسے تُو مجھ سے بہتر اور اچھی طرح جانتا ہے کاش زمیں پھٹ جائے اور راستباز اور تیرے راستے پر چلنے والے لوگ اُس میں سما جائیں کیونکہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سُنا اور اپنی کانپتی اور لرزتی ہوئی زبان سے بیان کررہا ہوں کہ کوئی ہے جو بتائے کہ مساجد، مدرسوں، امام بارگاہوں کے چندے کہاں جاتے ہیں زکواۃ اور فطرانہ کے نام پر جو بھتہ اکھٹا ہوتا ہے وہ کن پیٹوں میں اُتر جاتا ہے سرکاری ہسپتالوں میں علاج صحیح کیوں نہیں ہوتا اور پرائیویٹ ہسپتالوں کی بھاری فیس کیا کوئی غریب آدمی ادا کرسکتا ہے، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے بڑے وکلا کی بھاری فیسیں کیا کوئی غریب آدمی دینے کا تصور کرسکتا ہے۔ مساجد، امام بارگاہوں اور مدرسوں سے جوتے کون چوری کرلیتا ہے، اور کون ہے جو مساجد، امام بارگاہوں اور مدرسوں سے پانی کی موٹریں غائب کردیتا ہے۔ میرے مالک مجھے بتا امتحانات میں نقل کون کرتا ہے جعلی ڈگریاں کہاں سے ملتی ہیں اور جعلی ڈگری والے اسمبلیوں میں کیسے پہنچ جاتے ہیں ، رمضان جیسے مقدس مہینے کو لوگوں نے کاروبار کا ذریعہ کیوں بنا لیا ہے رمضان میں چیزیں کون مہنگی کرتا ہے، ٹی وی میں پیش کئے جانے والے رمضان کے پروگرام مذہب سے زیادہ کاروبار کیوں بن گئے ہیں افسوس غریب لوگوں کو اِن پروگراموں میں پیش کرکے اُن کی عزت نفس سے کون کھیلتا ہے، بظاہر انعامات کی بارش کی جاتی ہے اور لوگوں سے اِن پروگراموں میں عجیب و غریب حرکتیں کروائی جاتی ہیں اور لوگوں کی عزت نفس سے کھیلا جاتا ہے افسوس لوگ بھی انعامات کے لالچ میں عجیب و غریب حرکتیں کرنے پر تیار نظر آتے ہیں لیکن افسوس اُن لوگوں پر جو مذہب کے نام پر کاروبار کررہے ہیں اور کہتے ہیں ہم اصلاح کرنے والے ہیں اے ربِ جلیل تیرا اسلام تو یہ کہتا ہے کہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے کو خبر نہ ہو لیکن دینے والے بھرپور نمائش کرتے ہیں اور لوگوں کی عزت نفس سے کھیلتے ہیں اے میرے رب افسوس صد افسوس یہ سب کچھ ترقی کے نام پر ہو رہا ہے اور ہر کوئی ایک دوسرے کو لوٹنے کی کوشش میں مصروف ہے کیونکہ اکثریت کو گاڑی چاہیئے، بنگلہ چاہیئے، اچھا سٹیٹس چاہیئے، الماری کپڑوں سے بھری ہونی چاہیئے اے میرے رب کسی کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ پیسہ کیسے آیا اور جب مذہبی سکالر مذہب کو فروخت کرنا شروع کردیں تو پھر کہنے کے لئے کیا رہ جاتا ہے اے میرے مالک بتا وہ لوگ کہاں جائیں جو نیک رہنا چاہتے ہیں اور تیرے راستے پر چلنا چاہتے ہیں وہ تعداد میں بہت تھوڑے ہیں اب اُن کے حال پر رحم کر اور اپنی تلوار کو نازل کر تاکہ دُنیا سے ظلم و جور کا خاتمہ ہو اور یہ دنُیا عدل سے بھر جائے۔ کاش کوئی ہے جو سوچے اور سمجھے کہ تم کو کثرت کی خواہش نے غفلت میں رکھا اور یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔
العجل العجل العجل یا صاحب الزماں امام مہدی علیہ السلام
اگر کسی کو میری کسی بات سے کوئی اختلاف ہے تو وہ اختلاف رکھ سکتا ہے کیونکہ اختلاف رائے ہر ایک کا حق ہے اسی طرح میرا بھی حق ہے کہ میں دوسروں سے اختلاف رکھ سکوں اگر کسی کو میری کسی بات سے دکھ پہنچا ہو تو اس کے لئے معذرت خواہ ہوں کیونکہ یہ میری اپنے نظریات ہیں شاید کسی کو سمجھ آسکیں۔
سید محمد تحسین عابدی
Sunday, 12 July 2015
رب سے باتیں
رب سے باتیں
اے میرے رب میرے پاک پروردگار تو اس کائنات کا مالک اور خالق ہے اور کائنات کے ہرذرے اور ہرچیز کو تو نے پیدا کیا ہے ہر جاندار اور بے جان سب تیرے ہی حکم کے تابع ہیں سورج چاند، ستارے، آسمان زمین سب تیرے حکم سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں اور بے شک تیری مرضی کے بغیر کوئی پتا بھی نہیں ہل سکتا لیکن تو نے انسان کو خلق کیا اوراُس کو کو عمل کرنے کا اختیار عقل دے کر بھیجا کہ وہ اچھا عمل کرے یا برا عمل کرے اچھے عمل کی صورت میں اے میرے رب تو نے انسانوں سے جنت کا وعدہ کیا اور برے عمل کی صورت میں تو نے فرمایا جہنم سے ڈرایا کہ برے عمل کرنے والوں کو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالا جائے گا یہی وجہ ہے کہ تو انسانوں کے اچھے اور برے عمل میں دخل نہیں دیتا اور اُن کو عمل کی پوری آزادی تو نے فراہم کی ہے لیکن اے مالکِ کائنات میں جو کہ زمین کا ایک حقیر سا ذرہ ہوں اس عقل کی مدد سے جو تیری عطاء کی ہوئی اتنا ضرور جانتا ہوں کہ تو نے ہم انسانوں کو دُنیا میں تنہا نہیں چھوڑا ان کی ہدایت کے لئے ، رسولوں، پیغمبروں، انبیاء، اماموں، اولیاء، قلندروں، صالحین اور نیک لوگوں کو چُنا اور انہیں تو نے منتخب کیا کہ وہ دُنیا کے بھٹکے ہوئے انسانوں کو سیدھا اور سچائی کا راستہ دکھائیں۔
اے رب عظیم میں جو زمین کا ایک حقیر رینگنے والا کیڑا ہوں تیرے دئیے ہوئے علم کی وجہ سے یہ جانتا ہوں کہ تو نے انسانوں کی ہدایت کے لئے انبیاء علیہ السلام پر صحیفے نازل کئے اور اپنی چار مقدس کتابیں توریت، زبور، انجیل اور قرآن پاک نازل کیں تاکہ انسان اَن کتابوں کے ذریعے ہدایت پائیں اور سیدھے راستے کو اپنائیں تو نے چاہا کہ انسان جس کو اس دُنیا میں آزمائش کے لئے بھیجا ہے وہ تجھ پر، تیرے انبیاء، اماموں پر اور تیری نازل کی ہوئی مقدس کتابوں پر ایمان لائیں اور سیدھا اور ہدایت کا راستہ اپنائیں اور جنت کے حق دار بن جائیں اور تُو نے تو انسانوں پر اتنی زیادہ شفقت اور مہربانی بھی کی کہ اگر انسان کوئی غلطی، گناہ یا کوتاہی کر بیٹھے تو اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور گناہوں سے توبہ کرلے اور معافی مانگ لے تو اے ربِ کریم تو اُس گناہ گار انسان کو اپنی رحمت سے معاف فرما دے گا اور یقینا تو رحیم اور کریم اور بڑا معاف کرنے والا ہے۔ لیکن اے میرے خدا میں جو ایک انتہائی کمزور انسان ہوں نے جب اِس دُنیا میں انسانوں کو دیکھا اور اُن کی تاریخ کی تاریخ کو پڑھا تو میرا پورا وجود لرز گیا کہ انسان نے، اے میرے رب تھجھے اپنا دوست بنانے کے بجائے شیطان کو اپنا دوست بنا لیا (جبکہ تو نے شیطان کو انسان کا کھلا دشمن قرار دیا) اے میرے مالک و خالق جب میں انسان کی حالت دیکھتا ہوں تو مجھے یہ کڑوی سچائی نظر آتی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹے ہابیل اور قابیل تھے لیکن افسوس کہ قابیل نے اپنے اختیار سے جو اللہ نے اسے دیا تھا ہابیل کو قتل کردیا اور شیطان کو اپنا دوست بنا لیا یہ دُنیا میں انسان کا انسان کو قتل کرنے کا پہلا واقع تھا اور میرے مالک شاید یہ انسان کا پہلا عظیم گناہ تھا جس کی وجہ سے اس زمین پر سب سے پہلے انسان نے ہی انسان کا خون بہایا۔ کاش انسان سوچتا اور سمجھتا اور شیطان کی دوستی کو نہ اپناتا تو یہ دنیا جنت کی مانند ہوتی۔
اے مالکِ ارض و سما میں انتہائی عاجزی سے تجھ سے کہتا ہوں کہ تو نے اپنے پاک نبی حضرت نوح علیہ السلام کو دُنیا میں بھیجا کہ تیرے بندے اور تیرے پیدا کئے ہوئے انسان راہ ہدایت پائیں اور نوح تقریباً نو سو سال لوگوں کو تبلیغ کرتے رہے اور اُن کو تیرے راستے کی طرف محبت اور پیار سے بلاتے رہے لیکن افسوس انہوں نے تیرے بھیجے ہوئے پیغام کو رد کردیا اور شیطان سے دوستی کرلی اور نوح پر اور تیرے پیغام ہدایت پر اس سارے عرصہ میں صرف 33 کے قریب لوگ ایمان لائے اور وہ نوح کو ہنسی ٹھٹوں میں اُڑایا اور اُن کا مذاق اُڑاتے رہے تو جب مالک نوح اُن لوگوں سے مایوس ہوگئے تو تیرا عذاب آن پہنچا اور جلتے ہوئے تندور سے پانی ابل پڑا اورساری زمین اور پہاڑ پانی میں ڈوب گئے اور تمام ظالم ہلاک ہوگئے نوح اور ان کے گنتی کے چند ساتھی اُس کشتی میں محفوظ رہے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ اکثریت ظالم تھی اور بہت کم لوگ نیکی کو اپنانے والے تھے۔ کاش انسان سوچتا اور سمجھتا اور شیطان کی دوستی کو نہ اپناتا تو یہ دنیا جنت کی مانند ہوتی۔
اے کائنات کو پیدا کرنے والے میں تجھ سے عاجزی سے کہتا ہوں میں نے اِس دُنیا کی طرف کان لگائے تو میں نے دیکھا کہ تو نے اپنے پاک نبی حضرت ابراہیم کو بھیجا تاکہ نمرود جو خدائی کا دعوے دار تھا اور خود کو خدا کہلاتا تھا کو سیدھا اور سچا راستہ دکھائے اورحضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب سب بت پرست اور ظالم اور نمرود کو خدا سمجھنے والے جشن میں گئے ہوئے تھے تو حضرت ابراہیم نے اُن کے سب بتوں کو توڑ دیا اور بڑے بت کی گردن میں کلہاڑا ڈال دیا جب لوگ واپس آئے تو انہوں نے پوچھا کس نے ہمارے بُتوں کا یہ حشر کیا ہے تو انہیں علم ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ کام کیا ہے تو نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا تم نے یہ کام کیا ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ اس بڑے بت سے پوچھ لو یہ بتائے گا نمرود کو کہنا پڑا کہ یہ بُت بول نہیں سکتا تو حضرت ابراہیم نے کہا کہ پھر ایسے بُت کو کیوں پوجتے ہو جو بول بھی نہیں سکتا نمرود کے پاس حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بات کا کا کوئی جواب نہ تھا اُس نے آپ کو آگ میں ڈالنے کا حکم دیا لیکن اے پاک پروردگار تُو نے اپنے نبی علیہ السلام کو بچا لیا لیکن افسوس اس معجزے کے باوجود صرف گنتی کے چند لوگ ایمان لائے لیکن لوگوں کی اکثریت گمراہی کے گڑھے میں گری رہی انتہائی قلیل لوگ ایمان لانے والے تھے اللہ نے نمرود پر ایک مچھر کو اُس پر مسلط کردیا جس سے وہ ہلاک ہوا افسوس انسان سوچتا اورسمجھتا۔ کاش انسان سوچتا اور سمجھتا اور شیطان کی دوستی کو نہ اپناتا تو یہ دنیا جنت کی مانند ہوتی۔
اے مالک کوئی مانے یا نہ مانے تُو ہی ایک اللہ ہے اور سب ہی تیرے محتاج ہیں ہاں جس کو تو چاہے قدرت اور معجزے عطاء کرے میں تجھ سے عاجزی سے کہتا ہوں کہ میں نے کان لگا کر سنا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو فرعون جیسے خدائی کے دعوے دار اور ظالم سے اللہ کی مدد سے رہائی دلائی لیکن افسوس بنی اسرائیل جو تیری لاڈلی قوم تھی اور تو نے ان کو من و سلویٰ جیسی نعمت عطاء کی لیکن افسوس یہ قوم ہمیشہ تیری نافرمانی کرتی رہی اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر توریت کی آیات لینے کے لئے گئے تو ان کی قوم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اس کی پوجا شروع کردی غرض یہ قوم جو ہر نافرمانی کرتی تھی اور اے میرے مالک تو انہیں معاف کرتا رہا لیکن یہ اپنے نبی کی توہین کرتے تھے ان کی اکژیت نافرمان تھی اور شیطان کی دوست اور برائیوں کی طرف مائل تھی جبکہ بہت تھوڑے لوگ تھے جو نیک اور ایماندار تھے۔ کاش انسان سوچتا اور سمجھتا اور شیطان کی دوستی کو نہ اپناتا تو یہ دنیا جنت کی مانند ہوتی۔
اے زندگی اور موت کے مالک میں عاجزی سے کہتا ہوں کہ میں نے کان لگا کر سُنا قوم عاد اور قوم ثمود قوم شعیب اور قوم لوط نے شیطان دوستی کی اور اس کی راہ کو اپنایا اُن قوموں کی طرف جو انبیاء اور ہیغمبر علیہ السلام بھیجے گئے تھے اُن کو جھٹلایا اور ان کا م مذاق اُڑاتے رہے اور ان کو ہنسی اور ٹھٹھوں میں اُڑاتے رہے اور اُن سے کہتے رہے کہ وہ عذاب جن سے تم ہمیں ڈراتے ہو ہم پر لے آئو انہوں نے ناقہ صالح کو قتل کرڈالا ان سن قوموں کے غرور اور تکبر کی کوئی انتہا نہ تھی افسوس ان ظالموں نے اللہ کے نبیوں اور نیک اور صالح بندوں کو قتل کیا اور اُن کو طرح طرح کی اذیتیں دی تواے مالکِ دو جہاں تیرا غضب ان پر بھڑکا اور تُو نے ان سب قوموں کو عذاب سے دو چار کر دیا اور سب کو ہلاک کردیا یہ تیرے لئے بہت آسان تھا لیکن افسوس انسان اس بات کو نہیں سمجھتا ہے ان سب قوموں کے صرف گنتی کے چند لوگ تھے جو ایمان لائے تھے لیکن افسوس عظیم ترین اکثریت گمراہی اور گناہوں کی دلدل میں دھنسی ہوئی تھی۔ کاش انسان سوچتا اور سمجھتا اور شیطان کی دوستی کو نہ اپناتا تو یہ دنیا جنت کی مانند ہوتی۔
اے رحیم، اے کریم میں تجھ سے عاجزئ سے کہتا ہوں کہ میں نے کان لگا کرسُنا کہ تو نے بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کی ہدایت کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے اس دُنیا میں بھیجا یہ ایک تیری ایک کھلی ہوئی نشانی اور معجزہ تھا لیکن لوگوں نے حضرت عیسیٰ کی والدہ پر الزام لگا دیا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تیرے اِذن سے ان گمراہ لوگوں سے کلام کیا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور مجھے نبوت اور کتاب عطاء کی گئی ہے لیکن لوگ اتنی کھلی نشانی کے بعد گمراہی کا شکار رہے حضرت عیسیٰ کو اے ربِ کریم تو نے مُردوں کو زندہ کرنے اور بیماروں کو شفا دینے جیسے معجزات عطاء کئے تھے لیکن اتنی کھلی نشانیاں دیکھنے کے باوجود لوگوں کی گمراہی دُور نہ ہوئی اور آپ کے بارہ شاگردوں میں سے ایک نے آپ علیہ السلام کو پکڑوا دیا اور سب حضرت عیسیٰ کو چھوڑ کر بھاگ نکلے لیکن اے مالک تو نے اپنے نبی کو بچا لیا اور آسمان پر اُٹھا لیا لوگوں نے حضرت عیسیٰ کی جگہ اور کو صلیب دے دی لوگوں کی اکثریت گمراہی کا شکار رہی اور ایمان لانے والے بہت تھوڑے تھے افسوس صد افسوس۔ کاش انسان سوچتا اور سمجھتا اور شیطان کی دوستی کو نہ اپناتا تو یہ دنیا جنت کی مانند ہوتی۔
اے پاک پروردگار میں تجھ سے عاجزی کے ساتھ کہتا ہوں کہ میں ایک کمزرو اور ناتواں انسان ہوں کہ میں نے کان لگا سُنا کہ اور جانا کہ تو نے انسانوں کی ہدایت کے لئے صحفیے اور چار مقدس آسمانی کتابیں توریت، زبور، انجیل اور قرآن پاک نازل کیں تاکہ تیرے بندے اور لوگ گمراہی کا شکار ہو کر جہنم کی طرف نہ جائیں تو انسانوں پر کتنا شفیق اور مہربان ہے لیکن افسوس انسانوں نے تیری نازل کی ہوئی کتابوں میں اپنے تھوڑے سے فائدے کے لئے بڑی تبدیلیاں کیں اور شیطان سے دوستی کرلی اور اگر تو اپنی آخری کتاب قرآن پاک کی حفاظت کا خود ذمہ نہ لیتا تو شاید یہ انسان جسے تو نے فرمایا ہے کہ وہ خسارے میں ہے مجھے ڈر ہے اُس میں بھی تبدیلی کردیتا لیکن تیرے حفاظت کے ذمہ کی وجہ سے قرآن پاک محفوظ ہے اور انسانوں کے لئے مینارہ نور ہے مالکِ کائنات توریت، زبور اور انجیل میں تبدیلیوں جن قوموں پر یہ کتابیں نازل ہوئیں ان کی بہت بڑی اکثریت نے قبول کرلیا ہے اور اِن قوموں کے بہت ہی کم لوگ ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ اِن کتابوں میں تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ کاش انسان سوچتا اور سمجھتا اور شیطان کی دوستی کو نہ اپناتا تو یہ دنیا جنت کی مانند ہوتی۔
اے رحمان، اے رحیم، اے کریم میں جو زمین کا ایک ذرہ ہوں اور زمین پر رینگنے والا ایک حقیر کیڑا ہوں یا شاید ننھا سا جگنو ہوں اور بہت ہی کمزور اور ناتواں ہوں میں تجھ سے عاجزی سے کہتا ہوں کہ میں نے کان لگا کر سنا کہ تو نے اس دُنیا میں انسانوں کی ہدایت کے لئے اپنے سب سے پیارے حبیب اور اور سب سے افضل بندے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تمام جہانوں کے لئے رحمت العالمین بنا کر بھیجا اور اُن کھلا معجزہ قرآن پاک کی صورت میں نازل فرمایا اور حکم دیا کہ لوگوں کو ہدایت کی طرف بلائیں تو آپ کی قوم قریش نے آپ کی مخالفت پر کمر کس لی اور آپ کو ہر طرح اذیت دی لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی عطاء فرمائی اور اسلام کا نام بلند ہوا اور کفار کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا لیکن افسوس یہ ایک تلخ اور کڑوی سچائی ہے کہ جب آپ نے آخری حج کیا اور مسلمانوں کے ساتھ واپس غدیروخم کے مقام پر پہنچے یہ ایسا مقام تھا جہاں سے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے جدا ہوکر اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹنا تھا کہ آپ نے اللہ کےحکم سے لوگوں کو منبر بنانے کا حکم دیا اور منبر پر بیٹھ کر ارشاد فرمایا کہ کے اے لوگوں کیا تم
مجھے اپنا مولا اور آقا سمجھتے ہو سب نے کہا جی اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ ہمارے مولا اور آقا ہیں اور آپ ہماری جانوں پر اختیار رکھتے ہیں اس پر آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنے قریب بلایا اور آپ نے حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ بلند کیا اور فرمایا آج سے جس کا میں مولا ہوں یہ علی علیہ السلام اُس کا مولا ہے سب مسلمانوں نے اس پر حضرت علی علیہ السلام کو مبارک باد دی اور کہا آج سے آپ بھی ہمارے مولا اور آقا ہوگئے ہیں اس موقع پر سب مسلمانوں نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنا مولا
اور آقا تسلیم کیا اور اس کے بعد مسلمان اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ گئے لیکن افسوس اللہ کے رسول نے غدیر و خم کے مقام پر اللہ کے حکم سے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا جو اعلان کیا تھا اسے مسلمان بالکل بھول گئے اور مسلمانوں کی اکثریت جس نے حضرت علی علیہ السلام کو رسول کے سامنے اپنا مولا اور آقا مانا تھا بھول گئے اور اپنا انسان چن لیا اللہ کاش انسان سوچتا اور سمجھتا اور اکثریت صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی تو اے میرے وجود کے مالک میں یقین سے کہتا ہوں کہ 61 ہجری میں کربلا کا واقع کبھی بھی پیش نہ آتا میرے مالک میں انتہائی تلخ اور کڑوی سچائی تیرے سامنے پیش کرنے کی جرات کر رہا ہوں کیونکہ تو ہر چیز سے بہتر جانتا ہے اور تویقیناً سب سے بہتر علم رکھنے والا ہے تو میں ایک سوال کرتا ہوں اور اپنا مقدمہ تیرے حضور پیش کرتا ہوں کہ جب کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے بہتر قلیل ساتھیوں کو
یزید کے ایک بہت بڑے لشکر نے گھیر لیا تو وہ لشکر کے لوگ کیسے مسلمان تھے کہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ رسول کے وہ پیارے نواسے ہیں جن کو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کندھوں پر بٹھاتے تھے اور جن کے بارے میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیثیں تھیں کی حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام دنیا میں میرے دو پھول ہیں یا حسن اور حسین جوانان جنت کے سردار ہیں لیکن پھر بھی حضرت امام حسین علیہ السلام کو شہید کرنا چاہتے تھے میں تو اے ربِ ذوالجلال تجھ کو پکارتا ہوں اور پوچھتا ہوں کے اس وقت عرب، ایران، مصر، شام اور ھندوستان کے ساحل تک اور افریقہ تک مسلمان بستے تھے وہ اور بہت سے مسلمان ایسے تھے جنھوں نے رسول کا زمانہ بھی دیکھا تھا وہ سب کیوں خاموش رہے اور انہوں نے حضرت امام حسین کی مدد کیوں نہ کی اے مالک دو جہاں میرے ذہن اور عقل کو یہ سوال بار بار ڈستا ہے کہ صرف بہتر بہترین انسان امام حسین علیہ السلام کے ساتھ تھے باقی مسلمانوں کی اکثریت کہاں تھی
کیا مسلمانوں کو نہیں علم تھا کہ یہ رسول صلی علیہ وآلہ وسلم کے پیارے نواسے ہیں ہمیں ان کے دامن کو نہیں چھوڑنا چاہیئے لیکن افسوس اپنے جیسے لوگوں کو چُننے والے لوگ ہمیشہ نیک لوگوں کو مشکل وقت میں، اے میرے مالک کیوں چھوڑ جاتے ہیں افسوس صد افسوس اے میرے مالک کیا کسی انسان کے پاس اس بات کا جواب ہے کہ لوگوں کی اکثریت حضرت امام حسین علیہ السلام کا ساتھ کیوں چھوڑ گئی کیا وہ اکثریت خود کو مسلمان نہیں کہتی تھی کسی کے پاس اس بات کا اے میرے مالک جواب نہیں ہے ہاں اے میرے مالک لیکن تُو ضرور اس بات کا جواب جانتا ہے اے میرے پاک پروردگا میں تجھ سے عاجزی سے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر پوچھتا ہوں کہ جب اکثریت، چور، بے ایمان، منافق، ڈاکو اور ظالم بن جائے تو اے میرے مالک پھر نیک، متقی، پرہیزگار اور تیرے چُنے ہونے بندے جو اِس دنیا میں ایمانداری سے رہنا چاہتے ہیں وہ کہاں جائیں کیا وہ کیا کریں جب ظلم بڑھتے بڑھتے اتنا بڑھ جائے کہ ظالم ظُلم کرتے کرتے نہ تھکے اور مظلوم کی آواز اتنی کمزور ہوجائے تو وہ ان کے پاس تیرے سوا کوئی چارا نہیں اے میرے مالک میں دیکھتا ہوں کہ گناہ بڑھتے جاتے ہیں اور نیک لوگوں کا مذاق اُڑیا جاتا ہے جس کا باپ رشوت نہیں لیتا اس کی اولاد اسے پاگل سمجھتی ہے ہر شخص دُنیا کی کشش کی طرف تیزی سے بھاگ رہا ہے لوگ ایک دوسرے کو ذرا ذرا سی بات پر قتل کر دیتے ہیں۔ اے مالک اے میرے رب کوئی کام رشوت، سفارش، اور کمیشن کے بغیر نہیں ہوتا جو گناہ نہیں کرنا چاہتا وہ بھی گناہ پر مجبور کردیا گیا ہے نیکی تو ایسی ہی ہے جیسے آٹے میں نمک ہر شخص نے جھوٹ پر کمر باندھ رکھی ہے ہر طرف اے معبود نفرت کا بازار گرم ہے لوگ ایک دوسرے سے صرف نفرت کرکے جیتے ہیں مسلمان، عیسائی، یہودی، ہندو بدھ مت، سکھ اور تجھ کو نہ ماننے والے سب ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں کہیں شیعہ، سنی ، دیوبندی، بریلوی نفرت کا راگ الاپتے نظر آتے ہیں تو کہیں، پنجابی، سندھی، پٹھان، بلوچی، مہاجر نفرتوں کی آگ میں جل رہے ہیں
اے میرے معبود میں تجھ سے عاجزی سے فریاد کرتا ہوں کے کیا ابھی یہ دنیا ظُلم و جور سے نہیں بھری ہر طرف ظلم کا بازار گرم ہے اے پاک پروردگار تیرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے کہ جب یہ دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گی تو اس دنیا میں حضرت امام مہدی علیہ السلام تشریف لائیں گے اور وہ اس دنیا میں عدل قائم کریں گے تو اے میرے مالک تیرے پیارے رسول کی حدیث غلط نہیں ہوسکتی تو اے رب عظیم میں تجھ سے ہاتھ جوڑ کر التجا کرتا ہوں کہ اس دنیا میں وہ لوگ جو نیکی کا راستہ اپنانا چاہتے ہیں سخت ترین مشکل اور مصیبت میں ہیں اے میرے رب میری التجا سُن اور تمام نیک لوگوں کی التجا سن یہ دنیا ظلم و جور سے بھر چکی ہے اب اپنی رحمت نازل فرما اور امام مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھیج دے اور امام مہدی کا ظہور فرما دے ہم لوگ تھک گئے ہیں انتظار کرتے کرتے ہم ٹوٹتے چلے جارہے ہیں تجھے اپنے تمام انبیاء، اپنے تمام اماموں، اولیا، اور تمام نیک لوگوں کا واسطہ اب بس اپنی رحمت نازل کر اور ظہور فرما دے مالک ہمارے آنسوئوں کو اور ہماری فریاد کو سُن ہم سے ناراض مت ہو ہم بہت کمزور کردئیے گئے ہیں اور ہم کیا کریں کدھر جائیں ہمارا تیرے سوا کوئی سہارا نہیں ہے اے میرے مالک دیکھ یہ دنیا گمراہی کے گڑھے میں دھنستی چلی جارہی ہے اس کو اے مالک نکال سکتا ہے اور لوگوں کو ہدایت عطاء کرسکتا ہے۔
العجل العجل العجل یا صاحب الزماں امام مہدی علیہ السلام
اگر کسی کو میری کسی بات سے کوئی اختلاف ہے تو وہ اختلاف رکھ سکتا ہے کیونکہ اختلاف رائے ہر ایک کا حق ہے اسی طرح میرا بھی حق ہے کہ میں دوسروں سے اختلاف رکھ سکوں اگر کسی کو میری کسی بات سے دکھ پہنچا ہو تو اس کے لئے معذرت خواہ ہوں کیونکہ یہ میری اپنے نظریات ہیں شاید کسی کو سمجھ آسکیں۔
اے رحمان، اے رحیم، اے کریم میں جو زمین کا ایک ذرہ ہوں اور زمین پر رینگنے والا ایک حقیر کیڑا ہوں یا شاید ننھا سا جگنو ہوں اور بہت ہی کمزور اور ناتواں ہوں میں تجھ سے عاجزی سے کہتا ہوں کہ میں نے کان لگا کر سنا کہ تو نے اس دُنیا میں انسانوں کی ہدایت کے لئے اپنے سب سے پیارے حبیب اور اور سب سے افضل بندے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تمام جہانوں کے لئے رحمت العالمین بنا کر بھیجا اور اُن کھلا معجزہ قرآن پاک کی صورت میں نازل فرمایا اور حکم دیا کہ لوگوں کو ہدایت کی طرف بلائیں تو آپ کی قوم قریش نے آپ کی مخالفت پر کمر کس لی اور آپ کو ہر طرح اذیت دی لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی عطاء فرمائی اور اسلام کا نام بلند ہوا اور کفار کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا لیکن افسوس یہ ایک تلخ اور کڑوی سچائی ہے کہ جب آپ نے آخری حج کیا اور مسلمانوں کے ساتھ واپس غدیروخم کے مقام پر پہنچے یہ ایسا مقام تھا جہاں سے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے جدا ہوکر اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹنا تھا کہ آپ نے اللہ کےحکم سے لوگوں کو منبر بنانے کا حکم دیا اور منبر پر بیٹھ کر ارشاد فرمایا کہ کے اے لوگوں کیا تم
مجھے اپنا مولا اور آقا سمجھتے ہو سب نے کہا جی اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ ہمارے مولا اور آقا ہیں اور آپ ہماری جانوں پر اختیار رکھتے ہیں اس پر آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنے قریب بلایا اور آپ نے حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ بلند کیا اور فرمایا آج سے جس کا میں مولا ہوں یہ علی علیہ السلام اُس کا مولا ہے سب مسلمانوں نے اس پر حضرت علی علیہ السلام کو مبارک باد دی اور کہا آج سے آپ بھی ہمارے مولا اور آقا ہوگئے ہیں اس موقع پر سب مسلمانوں نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنا مولا
اور آقا تسلیم کیا اور اس کے بعد مسلمان اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ گئے لیکن افسوس اللہ کے رسول نے غدیر و خم کے مقام پر اللہ کے حکم سے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا جو اعلان کیا تھا اسے مسلمان بالکل بھول گئے اور مسلمانوں کی اکثریت جس نے حضرت علی علیہ السلام کو رسول کے سامنے اپنا مولا اور آقا مانا تھا بھول گئے اور اپنا انسان چن لیا اللہ کاش انسان سوچتا اور سمجھتا اور اکثریت صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی تو اے میرے وجود کے مالک میں یقین سے کہتا ہوں کہ 61 ہجری میں کربلا کا واقع کبھی بھی پیش نہ آتا میرے مالک میں انتہائی تلخ اور کڑوی سچائی تیرے سامنے پیش کرنے کی جرات کر رہا ہوں کیونکہ تو ہر چیز سے بہتر جانتا ہے اور تویقیناً سب سے بہتر علم رکھنے والا ہے تو میں ایک سوال کرتا ہوں اور اپنا مقدمہ تیرے حضور پیش کرتا ہوں کہ جب کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے بہتر قلیل ساتھیوں کو
یزید کے ایک بہت بڑے لشکر نے گھیر لیا تو وہ لشکر کے لوگ کیسے مسلمان تھے کہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ رسول کے وہ پیارے نواسے ہیں جن کو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کندھوں پر بٹھاتے تھے اور جن کے بارے میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیثیں تھیں کی حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام دنیا میں میرے دو پھول ہیں یا حسن اور حسین جوانان جنت کے سردار ہیں لیکن پھر بھی حضرت امام حسین علیہ السلام کو شہید کرنا چاہتے تھے میں تو اے ربِ ذوالجلال تجھ کو پکارتا ہوں اور پوچھتا ہوں کے اس وقت عرب، ایران، مصر، شام اور ھندوستان کے ساحل تک اور افریقہ تک مسلمان بستے تھے وہ اور بہت سے مسلمان ایسے تھے جنھوں نے رسول کا زمانہ بھی دیکھا تھا وہ سب کیوں خاموش رہے اور انہوں نے حضرت امام حسین کی مدد کیوں نہ کی اے مالک دو جہاں میرے ذہن اور عقل کو یہ سوال بار بار ڈستا ہے کہ صرف بہتر بہترین انسان امام حسین علیہ السلام کے ساتھ تھے باقی مسلمانوں کی اکثریت کہاں تھی
کیا مسلمانوں کو نہیں علم تھا کہ یہ رسول صلی علیہ وآلہ وسلم کے پیارے نواسے ہیں ہمیں ان کے دامن کو نہیں چھوڑنا چاہیئے لیکن افسوس اپنے جیسے لوگوں کو چُننے والے لوگ ہمیشہ نیک لوگوں کو مشکل وقت میں، اے میرے مالک کیوں چھوڑ جاتے ہیں افسوس صد افسوس اے میرے مالک کیا کسی انسان کے پاس اس بات کا جواب ہے کہ لوگوں کی اکثریت حضرت امام حسین علیہ السلام کا ساتھ کیوں چھوڑ گئی کیا وہ اکثریت خود کو مسلمان نہیں کہتی تھی کسی کے پاس اس بات کا اے میرے مالک جواب نہیں ہے ہاں اے میرے مالک لیکن تُو ضرور اس بات کا جواب جانتا ہے اے میرے پاک پروردگا میں تجھ سے عاجزی سے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر پوچھتا ہوں کہ جب اکثریت، چور، بے ایمان، منافق، ڈاکو اور ظالم بن جائے تو اے میرے مالک پھر نیک، متقی، پرہیزگار اور تیرے چُنے ہونے بندے جو اِس دنیا میں ایمانداری سے رہنا چاہتے ہیں وہ کہاں جائیں کیا وہ کیا کریں جب ظلم بڑھتے بڑھتے اتنا بڑھ جائے کہ ظالم ظُلم کرتے کرتے نہ تھکے اور مظلوم کی آواز اتنی کمزور ہوجائے تو وہ ان کے پاس تیرے سوا کوئی چارا نہیں اے میرے مالک میں دیکھتا ہوں کہ گناہ بڑھتے جاتے ہیں اور نیک لوگوں کا مذاق اُڑیا جاتا ہے جس کا باپ رشوت نہیں لیتا اس کی اولاد اسے پاگل سمجھتی ہے ہر شخص دُنیا کی کشش کی طرف تیزی سے بھاگ رہا ہے لوگ ایک دوسرے کو ذرا ذرا سی بات پر قتل کر دیتے ہیں۔ اے مالک اے میرے رب کوئی کام رشوت، سفارش، اور کمیشن کے بغیر نہیں ہوتا جو گناہ نہیں کرنا چاہتا وہ بھی گناہ پر مجبور کردیا گیا ہے نیکی تو ایسی ہی ہے جیسے آٹے میں نمک ہر شخص نے جھوٹ پر کمر باندھ رکھی ہے ہر طرف اے معبود نفرت کا بازار گرم ہے لوگ ایک دوسرے سے صرف نفرت کرکے جیتے ہیں مسلمان، عیسائی، یہودی، ہندو بدھ مت، سکھ اور تجھ کو نہ ماننے والے سب ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں کہیں شیعہ، سنی ، دیوبندی، بریلوی نفرت کا راگ الاپتے نظر آتے ہیں تو کہیں، پنجابی، سندھی، پٹھان، بلوچی، مہاجر نفرتوں کی آگ میں جل رہے ہیں
اے میرے معبود میں تجھ سے عاجزی سے فریاد کرتا ہوں کے کیا ابھی یہ دنیا ظُلم و جور سے نہیں بھری ہر طرف ظلم کا بازار گرم ہے اے پاک پروردگار تیرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے کہ جب یہ دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گی تو اس دنیا میں حضرت امام مہدی علیہ السلام تشریف لائیں گے اور وہ اس دنیا میں عدل قائم کریں گے تو اے میرے مالک تیرے پیارے رسول کی حدیث غلط نہیں ہوسکتی تو اے رب عظیم میں تجھ سے ہاتھ جوڑ کر التجا کرتا ہوں کہ اس دنیا میں وہ لوگ جو نیکی کا راستہ اپنانا چاہتے ہیں سخت ترین مشکل اور مصیبت میں ہیں اے میرے رب میری التجا سُن اور تمام نیک لوگوں کی التجا سن یہ دنیا ظلم و جور سے بھر چکی ہے اب اپنی رحمت نازل فرما اور امام مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھیج دے اور امام مہدی کا ظہور فرما دے ہم لوگ تھک گئے ہیں انتظار کرتے کرتے ہم ٹوٹتے چلے جارہے ہیں تجھے اپنے تمام انبیاء، اپنے تمام اماموں، اولیا، اور تمام نیک لوگوں کا واسطہ اب بس اپنی رحمت نازل کر اور ظہور فرما دے مالک ہمارے آنسوئوں کو اور ہماری فریاد کو سُن ہم سے ناراض مت ہو ہم بہت کمزور کردئیے گئے ہیں اور ہم کیا کریں کدھر جائیں ہمارا تیرے سوا کوئی سہارا نہیں ہے اے میرے مالک دیکھ یہ دنیا گمراہی کے گڑھے میں دھنستی چلی جارہی ہے اس کو اے مالک نکال سکتا ہے اور لوگوں کو ہدایت عطاء کرسکتا ہے۔
العجل العجل العجل یا صاحب الزماں امام مہدی علیہ السلام
اگر کسی کو میری کسی بات سے کوئی اختلاف ہے تو وہ اختلاف رکھ سکتا ہے کیونکہ اختلاف رائے ہر ایک کا حق ہے اسی طرح میرا بھی حق ہے کہ میں دوسروں سے اختلاف رکھ سکوں اگر کسی کو میری کسی بات سے دکھ پہنچا ہو تو اس کے لئے معذرت خواہ ہوں کیونکہ یہ میری اپنے نظریات ہیں شاید کسی کو سمجھ آسکیں۔
سید محمد تحسین عابدی
پاکستان بمقابلہ سری لنکا ون ڈے سیریز
پاکستان بمقابلہ سری لنکا ون ڈے سیریز
پاکستانی کرکٹ ٹیم کا قوم کو عید کا تحفہ
پاکستان بمقابلہ سری لنکا تیسرا ون ڈے انٹر نیشنل
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تیسرا ون ڈے انٹرنیشنل میچ کولمبو میں ہوا یہ میچ ڈے اور نائٹ تھا اور پاکستانی وقت کے مطابق دو بجے شروع ہوا اس میچ سے پہلے پاکستان اور سری لنکا نے ایک ایک میچ جیت رکھا تھا اور دونوں ٹیمیں اس میچ میں کامیابی کے بعد یہ میچ جیت کر سیریز میں برتری حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ ٹاس کے معاملے میں پاکستانی ٹیم کے کپتان اظہرعلی ایک بار پھر خوش قسمت رہے اور انہوں نے ٹاس جیت کر ایک اچھی وکٹ پر بیٹنگ کا فیصلہ کیا اگرچہ مبصرین کی رائے تھی کہ اس وکٹ پر 240 سے 250 رنز کا ہدف کافی ہوگا لیکن پاکستانی ٹیم تو کچھ کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اتری تھی۔
پاکستان کی طرف سے اننگز کا آغاز اظہر علی اور احمد شہزاد نے کیا شروع کے پانچ اوورز میں پاکستان کے اوپنرز اظہر علی اور احمد شہزاد نے احتیاط سے کھیل پیش کیا اور پھر سکور کو بڑھانا شروع کیا اور سنگل اور ڈبل کے ساتھ ساتھ انہیں جہاں بھی موقع ملا چوکا مار کر سکور میں اضافہ کرتے رہے اور ایک اچھی اوپننگ پاٹنر شپ قائم کی جب پاکستان کا سکور93 ہوا تو احمد شہزاد 44 رنز بنا کر ملنگا کا شکار بن گئے احمد شہزاد کے بعد محمد حفیظ کھیلنے کے لئے آئے وہ بائولنگ میں پابندی کی وجہ سے بطور بیسٹمین پاکستانی ٹیم میں شامل تھے محمد حفیظ نے کپتان اظہر علی کے ساتھ سکور کو آگے کی طرف بڑھانا شروع کیا اظہر علی بہت اعتماد کے ساتھ بیٹنگ کر رہے تھے لیکن بدقستمی سے وہ ڈبل رنز لینے کے چکر میں دوسرا رنز لیتے ہوئے ایک لمحے کے لئے رکے اور اپنی اس غلطی کا انہیں خمیازہ بھگتنا پڑا اور اور نصف سینچری سے ایک رنز کی کمی پر 49 رنز بنا کر رن آئوٹ ہوگئے۔
اظہر علی نے اس اننگز میں اگرچہ نصف سینچری تو مکمل نہ کر سکے لیکن وہ ایک بڑا اعزاز اپنے نام کرنے میں ضرور کامیاب رہے انہوں نے پاکستان سب سے کم 23 میچوں میں ایک ہزار رنز مکمل کرنے کا اعزاز حاصل کرلیا اس سے پہلے یہ اعزاز یاسرعلی کے پاس تھا جنہوں نے 24 میچوں میں ایک ہزار رنز بنائے تھے۔ سب سے کم میچوں میں ایک ہزار رنز کا اعزاز ویسٹ انڈیز کے ویو رچرڈ کے پاس ہے انہوں نے 21 میچوں میں ایک ہزار رنز مکمل کئے ہیں۔
اظہر علی کے آئوٹ ہونے کے بعد پاکستان کی ٹیم مینجمینٹ نے ایک دلیرانہ اور اچھا فیصلہ کیا انہوں نے سرفراز کو چوتھے نبمر پر بیٹنگ کے لئے بھیجا اور سرفراز نے بھی مایوس نہیں کیا کیونکہ سرفراز نے چاہے اوپننگ ہو یا ساتواں نمبرہر مقام پر اپنا لوہا منوایا ہے سرفراز کی آمد کے ساتھ ہی پاکستانی ٹیم میں ایک دم جیسے جان پڑ گئی اور سکور میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہونا شروع ہوا اور سرفراز نہ صرف سٹرایئک روٹیٹ کر رہے تھے بلکہ سنگل رنز کو ڈبل میں بھی تبدیل کررہے تھے اور چوکے بھی لگا رہے تھے ادھر محمد حفیظ بھی اچھے کھیل کا مظاہرہ کررہے تھے محمد حفیظ نے اپنی نصف سینچری مکمل کرلی تھی لیکن جب وہ 54 رنز پر پہنچے تو وہ پیتھرانا کی گیند پر پریرا کے ہاتھوں کیچ آئوٹ ہوگئے۔
محمد حفیظ کے بعد تجربہ کار اور اِن فارم بیسٹمین شعیب ملک میدان میں آئے وہ پہلے دونوں ون ڈے میچوں میں دو شاندار نصف سینچریاں بنا چکے تھے اور انہوں نے سرفراز کا ساتھ ذمہ داری کے ساتھ دینا شروع کیا جس کی وجہ سے سکور بورڈ میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہونا شروع ہوگیا اور پاکستانی ٹیم کو 300 رنز کا ہندسہ عبور کرنے کی امید پیدا ہوگئی سرفراز نے انتہائی سمجھ داری سے اپنی اننگز میچ کی صورتحال کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کھیلی اور امید تھی کہ وہ اپنی سینچری مکمل کرلیں گے لیکن وہ پریرا کی ایک خوبصورت تھرو پر بدقسمتی سے رن آئوٹ ہوگئے انہوں نے شاندار 77 رنز بنائے مبصرین کا خیال ہے کہ سرفراز کو چوتھے نمبر پر ہی بھیجنا چاہیئے تاکہ وہ پاکستانی ٹیم کے لئے اس نمبر پر بہتر پرفارمنس دے سکیں کیونکہ وہ میچ کی صورتحال کے مطابق کھیلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
سرفراز کے آئوٹ ہونے کے بعد محمد رضوان کھیلنے کے لئے آئے اور انہوں نے شیعب ملک کے ساتھ ملکر بہت تیز رفتاری کے ساتھ سکور میں اضافہ کرنا شروع کیا اور وکٹ کے چاروں طرف خوبصورت سٹروک کھیلے دوسری طرف شیعب ملک اپنے تجربے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے وکٹ پر جمے رہے اور انہوں نے رضوان کو کھلایا جس کی وجہ سے پاکسانی ٹیم کو کافی فائدہ ہوا جب میچ کے مقررہ پچاس اوورز ختم ہوئے تو شیعب ملک 29 گیندوں پر 42 شاندار رنز بنا کر ناٹ آئوٹ رہے جبکہ محمد رضوان نے 22 گیندوں پر 35 رنز کی ایک جاراحانہ اننگز کھیلی اور پاکستان کی ٹیم نے مقررہ اوورز میں 316 رنز بنائے اور اُس کے چار کھلاڑی آئوٹ ہوئے تھے اور پاکستان کی ٹیم نے سری لنکا کو 317 رنز کا ایک بڑا ہدف دیا تھا۔ پاکستان کی ٹیم میں تقریبا سب بیسٹمینوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور سب نے اپنا حصہ ڈالا جس کی وجہ سے پاکستانی ٹیم بہت اچھا سکور کرنے میں کامیاب ہوئی۔ سری لنکا کی طرف سے بائولنگ کے شعبے میں میتھیوز اور ملنگا نے ایک ایک کھلاڑی کو آئوٹ کیا جبکہ دو کھلاڑی رنز آئوٹ ہوئے ملنگا نے 10 اوورز میں 80 رنز دیئے اور وہ اچھی بائولنگ کا مظاہرہ نہ کرسکے .
سری لنکا کی ٹیم کے اوپنرز کوشال پریرا اور تلکا رتنے دلشان نے جب اننگز کا آغاز کیا تو ان کے سامنے 317 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف تھا جس کی وجہ سے وہ سخت دبائو کا شکار تھے سری لنکا کی پہلی وکٹ 33 رنز کے مجموعی سکور پر گری جب دلشان 14 رنز بنا کر انور علی کی ایک گیند پر اظہرعلی کو کیچ تھما بیٹھے اور آئوٹ ہوگئے کچھ دیر بعد جب سری لنکا کا سکور 42 رنز تھا انور علی کی ایک آئوٹ کٹر پرسرفراز کو کیچ دے کے چلتے بنے انہوں نے 20 رنز بنائے یہ وکٹ پاکستان کے لئے بہت اہم تھی کوشال کے آئوٹ ہونے سے پاکستانی کیمپ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
سری لنکا کے بلے باز تھری مانے ایک طرف پاکستانی ٹیم کے بالروں کا مقابلہ کرنے کی کوشش میں مصروف تھے تو دوسری طرف سے سری لنکا کی ٹیم کی وکٹیں گرنے کا سلسلہ شروع تھا اوپل ترنگا 16 رنز بنا کر یاسر شاہ کا شکار بن گئے انہیں شیعب ملک نے کیچ کرلیا ترنگا کے آئوٹ ہونے کے بعد سری لنکا ٹیم کے کپتان میتھیوز کھیلنے کے لئے آئے اور اُمید تھی کہ وہ مزاحمت کریں گے اورسری لنکا کی ٹیم کو مشکلات سے نکالنے میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن وہ ایسا نہ کرسکے اور یاسر شاہ کی گیند پر شیعب ملک کے محفوظ ہاتھوں میں کیچ آئوٹ ہو گئے
سری لنکا کے کپتان میتھیوز کے آئوٹ ہونے کے بعد پاکستان کے جادوئی بائولر یاسر شاہ کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا اور وہ سری لنکا کے بیسٹمینوں پر چھا گئے اور دوسری طرف اپنا پہلا ون ڈے میچ کھیلنے والے لیفٹ آرم بائولرعماد وسیم نے بھی اچھی بائولنگ کی اور انہوں نے چندی مل کو 18 رنز پر بولڈ کرکے ون ڈے انٹرنیشل میں اپنی پہلی وکٹ حاصل کی دوسری طرف تھاشارا پریرا کو یاسر شاہ نے نے انور علی کے ہاتھوں کیچ آئوٹ کرا دیا دوسری طرف ترامانے جو کافی اچھا کھیل رہے تھے راحت علی کی گیند پرسرفراز کے ہاتھوں کیچ آئوٹ ہوگئے انہوں نے 56 رنز کی ایک خوبصورت اننگز کھیلی اور نصف سینچری بنائی۔
سری وردھنا کو شیعب ملک نے 2 رنز پر رن آئوٹ کردیا۔ پیتھرانا کو یاسر شاہ نے 19 رنز پر آئوٹ کردیا جبکہ ملنگا کی وکٹ عماد وسیم نے حاصل کی انہوں نے چھ رنز بنائے اور پردیب 3 رنز بنا کر ناٹ آئوٹ رہے اس طرح سری لنکا کی پوری ٹیم بیالسویں اوور میں 181 رنز بنا کر آئوٹ ہوگئی اور پاکستانی ٹیم نے اس میچ میں 135 رنز کے بڑے مارجن سے فتح حاصل کرکے سیریز میں 2 کے مقابلے میں ایک میچ سے برتری حاصل کرلی۔ اس میچ میں پاکستانی ٹیم نے سری لنکا کی ٹیم کو ہر شعبے میں آئوٹ کلاس کردیا اور میچ یکطرفہ نظر آیا۔
پاکستانی ٹیم نے بائولنگ کے شعبے میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا یاسر شاہ کی جادوئی بائولنگ اس میچ میں نظر آئی اور انہوں نے شاندار بائولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سری لنکا کے چار کھلاڑیوں کو پویلیئن کی راہ دکھائی اس کے علاوہ پہلا ون ڈے میچ کھیلنے والے عماد وسیم نے بھی بہت اچھی بائولنگ کا مظاہرہ کیا اور سری لنکا کے دو کھلاڑی آئوٹ کئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی ٹیم کو عماد وسیم کی صورت میں ایک اچھا آل رائونڈر مل جائے گا۔ اس کے علاوہ انورعلی نے بھی 2 کھلاڑی آئوٹ کئےآج انہوں نے اپنی آئوٹ کٹرز سے سری لنکا کے بلے بازوں کو بہت پریشان کیا اس کے علاوہ انورعلی نے بہترین فیلڈنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2 خوبصورت کیچ پکڑے اور ایک کیچ تو آج کے میچ کا سب سے خوبصورت کیچ تھا جبکہ راحت علی نے بھی ایک وکٹ بٹوری وکٹوں کے پیچھے سرفراز نے تین شکار کئے۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تیسرا ون ڈے انٹرنیشنل میچ بدںظمی کا شکار ہو گیا سری لنکا کی اننگز کے دوران دو گرپوں میں تصادم ہوگیا جس کی وجہ سے ایک دوسرے پر پتھرائو کا آزادانہ استعمال کیا گیا اور ایک پتھر وکٹ کے قریب گرائونڈ میں آکر گرا جس کی وجہ سے میچ کو روک دیا گیا اور پتھرائو کرنے والے تماشائیوں کو انتظامیہ نے میدان سے باہر نکال دیا جس کے بعد میچ آدھے گھنٹے بعد شروع ہوا سری لنکا کی انتظامیہ کو اس بدنظمی کا سخت نوٹس لینا چاہیئے تاکہ آنے والے میچوں میں اس قسم کے واقعات سے بچا جاسکے کیونکہ پاکستان میں ذرا سی بھی کوئی بات ہوتی ہے تو پوری دُنیا میں شور مچ جاتا ہے۔
سید محمد تحسین عابدی
پاکستان بمقابلہ سری لنکا ون ڈے سیریز
پاکستان بمقالہ سری لنکا دوسرا ون ڈے انٹرنیشنل
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوسرا ون ڈے انٹرنیشنل میچ ڈے اینڈ نائٹ تھا پاکستان کی ٹیم نے پہلے میچ میں کامیابی حاصل کی تھی جس کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کا مورال کافی بلند ہوگیا تھا لیکن سری لنکا کی ٹیم پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں شکست کی وجہ سے زخم خوردہ تھی اور وہ دوسرے ون ڈے میچ میں کامیابی حاصل کرکے حساب برابر کرنا چاہتی تھی جس کی وجہ دوسرے ون ڈے میچ میں سخت مقابلہ کی توقع تھی لیکن میچ میں بادلوں نے ڈیرے ڈال دیئے تو میچ میں تاخیر ہوگئی اور یہ میچ تقریباً آدھا گھنٹہ کی تاخیر سے شروع ہوا۔
پاکستانی ٹیم کے کپتان اظہرعلی نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کے اوپنرز اظہر علی اور احمد شہزاد نے اننگز کا آغاز کیا اور 59 رنز کی ایک اچھی پاٹنر شپ قائم کی جس کی وجہ سے پاکستان کو ایک اچھا آغاز مل گیا احمد شہزاد 30 رنز بنا کر آئوٹ ہوئے تو پچھلے میں میں سینچری بنانے والے محمد حفیظ اظہرعلی کا ساتھ دینے کے لئے میدان میں آئے لیکن وہ نو رنز بنا کرایک غیر ضروری تیز سٹروک کھیلتے ہوئے پتھیرانا کی گیند پر میتھیوز کے ہاتھوں کیچ آئوٹ ہوگئے تو ان کی جگہ بابر اعظم کھیلنے کے لئے آئے لیکن وہ بارہ رنز کی اننگز کھیل سے اور آئوٹ ہوگئے اس وقت پاکستان کی ٹیم کچھ مشکل کا شکار نظر آئی بابر اعظم کی جگہ تجربہ کار شعیب ملک نے سنبھالی تو یہ خطرہ پیدا ہوا کہ اگر ایک وکٹ اور گر گئی تو پاکستانی ٹیم بہت مشکل میں پڑجائے گی لیکن اس مشکل مرحلے پر تجربہ کار شعیب ملک نے اور کپتان اظہر علی نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید وکٹیں گرنے کے سلسلے کو روک دیا اس وقت سری لنکا کے بائولر بھی وکٹ حاصل کرنے کے لئے اپنا پورا زور لگا رہے تھے لیکن اس نازک موقع پر اظہر علی اور شیعب ملک نے محتاط رویہ اپنایا اور سنگل اور ڈبل رنز لے کر سٹرائیک روٹیٹ کرتے رہے
جس کی وجہ سے پاکستان کا سکور بڑھنا شروع ہوا اور پاکستان کی ٹیم ایک اچھی پوزیشن کی طرف جاتی ہوئی نظر آئی اس دوران اظہر علی اور شعیب ملک نے اپنی نصف سینچریاں مکمل کرلیں اس موقع پر شعیب ملک کو 51 رنز پر میتھیوز نے بولڈ کردیا اور شیعب ملک اور اظہر علی کے درمیان 83 رنز کی شاندار شراکت قائم ہوئی جب شعیب ملک آئوٹ ہوئے تو اس وقت پاکستان کا سکور 179 رنز تھا اور ان کے چار کھلاڑی آئوٹ ہوئے تھے شعیب ملک کے آئوٹ ہونے کے بعد محمد رضوان میدان میں آئے اور انہوں نے اپنے کپتان اظہر علی کا ساتھ دینا شروع کیا لیکن اس وقت اظہر علی ایک غیر ضروری اونچا سٹروک کھیل گئے جس کی وجہ سے ان کو اپنی وکٹ کھونا پڑی جب اظہر علی آئوٹ ہوئے تو اس وقت پاکستان کا سکور 197 رنز تھا اور اظہر علی نے شاندار 79 رنز کی اننگز کھیلی۔
اظہر علی کے آئوٹ ہونے کے بعد سرفراز کھیلنے کے لئے آئے لیکن وہ سات رنز بنا کر ملنگا کے ایک شاندار یارکر پر ائوٹ ہوگئے اب انور علی نے کریز سنبھالی اور محمد رضوان کا اچھا ساتھ نبھایا محمد رضوان نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور اپنی نصف سینچری مکمل کی وہ 52 رنز کی ایک اچھی اننگز کھیل کر آئوٹ ہو گئے رضوان کے آئوٹ ہونے کے بعد یاسر شاہ کھیلنے کے لئے آئے لیکن وہ صرف ایک رنز بنا سکے۔ جب مقررہ پچاس اوورز کا کھیل مکمل ہوا تو پاکستان نے 287 رنز بنا لئے تھے اور اس کے آٹھ کھلاڑی آئوٹ ہوئے تھے انور علی 29 رنز بنا کر ناٹ آئوٹ رہے صورتحال کے پیش نظر یہ ایک اچھی اننگز تھی اورپاکستان کی ٹیم نے سری لنکا کی ٹیم کو ایک اچھا ہدف 288 رنز کا دیا جس سے یہ خیال کیا جارہا تھا کہ پاکستانی ٹیم یہ میچ جیت لے گی۔
بائولنگ کے شعبے میں سری لنکا کی طرف سے ملنگا نے دو کھلاڑیوں کو اور ملنگا نے پیتھرانا کے حصے میں بھی دو وکٹیں آئیں جبکہ میتھوز، دلشان، پردیب اور سری وردھنا کے حصے میں ایک ایک وکٹ آئی
سری لنکا کی ٹیم نے 288 رنز کے ہدف کا تعاقب پریرا اور دلشان نے شروع کیا سری لنکا کی ٹیم نے اپنی اننگز کا آغاز مکمل منصوبہ بندی سے کیا انہوں نے پاکستانی بائولروں پر اٹیک کی پالیسی کو اپنایا اور کوشال پریرا نے سترہ گنیدوں پر شاندار نصف سینچری مکمل کرلی جس کی وجہ سے پاکستانی بائولر مشکل صورتحال سے دو چار نظر آئے پریرا کی جارحانہ اننگز کی وجہ سے سری لنکا کی ٹیم میچ پر حاوی ہوتی ہوئی نظر آئی
کوشال پریرا 25 گیندوں پر 68 رنز کی ایک شاندار جاحارانہ اننگز کھیل کر عرفان کی گیند پر یاسر شاہ کے ہاتھوں کیچ آئوٹ ہوئے تو اس وقت سری لنکا کو سکور ایک وکٹ کے نقصان پر 92 رنز تھا یہ پریرا اوردلشان کے درمیان ایک شاندار شراکت تھی پریرا کے آئوٹ ہونے کے بعد اپل ترنگا کھیلنے کے لئے آئے اور وہ 28 رنز بنا کر آئوٹ ہوئے انہیں راحت علی نے بولڈ کیا ترنگا کے آئوٹ ہونے کے بعد دلشان بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹہر سکے لیکن جب وہ آئوٹ ہوئے تو انہوں نے ذمہ داری سے کھیلتے ہوئے 47 رنز بنائے تھے اُنہیں بھی راحت علی نے بولڈ کیا دلشان کے آئوٹ ہونے کے بعد کپتان میتھیوز کھیلنے کے لئے آئے لیکن انہیں بابر اعظم نے رن آئوٹ کیا ان کے بعد تھاری مانے بھی 4 رنز بنا کر راحت علی کی گیند پر آئوٹ ہوگئے اور انہیں راحت علی نے اپنی گیند پر خود ہی کیچ کیا
اُن کے بعد چندی مل نے 48 رنز کی شاندار ناٹ ائوٹ اننگز کھیلی اُن کے علاوہ سری وردھنا نے 26 رنز اور پیتھرانا نے 33 رنز کی اننگز کھیلی سری لنکا کی ٹیم ہدف کا تعاقب کرتی رہی اور سری لنکا کی ٹیم نے 288 رنز کا ہدف 48 اوورز اور ایک گیند پر مکمل کرلیا اس وقت سری لنکا کی آٹھ وکٹیں گر چکی تھی اس طرح سری لنکا نے یہ ایک میچ دو وکٹوں سے جیت لیا اور پانچ میچوں کی سیریز کو ایک ایک سے برابر کردیا
سری لنکا کی جیت میں کوشال پریرا کی اننگز نے اہم کردار ادا کیا کیونکہ اُن کی 25 گیندوں پر 68 رنز کی شاندار اننگز نے میچ کا نقشہ سری لنکا کے حق میں پلٹ دیا بائولنگ کے شعبے میں راحت علی نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور تین سری لنکا کے کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا لیکن وہ بھی کوشال پریرا کی جاحارانہ اننگز کے سامنے بند نہ باندھ سکے اُن کے علاوہ محمد حفیظ نے دو کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا اور محمد عرفان اور راحت علی کے حصت میں ایک ایک وکٹ آئی
پاکستان کی ٹیم کوآنے والے بقیہ تین میچوں میں زیادہ بہتر کارکرگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ پاکستان کی ٹیم کو چیمپینز ٹرافی میں اپنی شرکت کو یقینی بنانے کے لئے کم از کم تین میچوں میں کامیابی حاصل کرنا ہوگی اور اس سیریز میں پاکستان کی ٹیم کی سریز میں کامیابی انتہائی اہم اور ضروری ہے محمد عرفان کی اگرچہ ٹیم میں واپسی ہوئی ہے لیکن وہ اپنی کارکردگی سے متاثر نہیں کرسکے ہیں امید ہے آنے والے میچوں میں وہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ اس کے علاوہ اظہر علی اگرچہ بیٹنگ اچھی کر رہے ہیں لیکن اُنہیں ہار کا خوف اپنے ذہن سے نکالنا ہوگا اور اٹیکنگ کپتان کو کردار اپنانا ہوگا۔ سب دعا کریں کہ پاکستان کی ٹیم یہ سیریز جیت لے تاکہ اپنی رینکنگ کو بہتر بنا سکے
سید محمد تحسین عابدی
پاکستان بمقابلہ سری لنکا ون ڈے سیریز
پاکستان بمقابلہ سری لنکا پہلا ون ڈے انٹر نیشنل
پاکستان کی سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں دو ایک سے کامیابی کے بعد پاکستان کی ٹیم کا مورال کافی بلند تھا اور اسی لئے پاکستان میں کرکٹ کے شائقین اور مبصرین کو یہ امید پیدا ہوگئی تھی کہ پاکستان کی ٹیم پانچ میچوں کی ون ڈے سیریز میں اچھی کارکردگی پیش کرے گی یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی ٹیم دمبولا کے کرکٹ سٹیدیم میں ہونے والے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں اعتماد کے ساتھ میدان میں اتری اور پاکستانی ٹیم کے کپتان اظہر علی نے جب ٹاس جیت کر سری لنکا کی ٹیم کو بیٹنگ کی دعوت دی تو یہ اظہر علی کا ایک بولڈ فیصلہ تھا کیونکہ پاکستانی ٹیم کی ماضی کی کارکردگی یہ رہی ہے کہ پاکستان کی ٹیم کو رنز چیزنگ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کی وجہ سے جب اظہر علی نے ٹاس جیت کر بائولنگ کا فیصلہ کیا تو کچھ مبصرین کی رائے میں یہ ایک صحیح فیصلہ نہیں تھا لیکن اظہر علی نے سری لنکا کو بیٹنگ دینے کا ایک پر اعتماد فیصلہ کیا جو بعد میں بالکل صحیح ثابت ہوا۔
سری لنکا کی ٹیم کے اوپنرز کوشال پریرا اور دلشان نے سری لنکا کی طرف سے بیٹنگ کا آغاز کیا ابتدا میں ہی سری لنکا کے کھلاڑیوں نے تیزی سے رنز بنانے کی کوشش کی اور اس میں وہ کامیاب نظر آئے پہلی وکٹ کی پاٹنر شپ میں 44 قیمتی رنز کا اضافہ ہوا اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اگر یہ پاٹنر شپ جم گئی تو سری لنکا کی ٹیم کافی بڑا سکور کرنے میں کامیاب ہو جائے گی لیکن اس موقع پر محمد حفیظ کی گیند پر رضوان نے ایک خوبصورت کیچ لے کر کوشال پریرا کو آئوٹ کردیا تو پاکستانی ٹیم نے کچھ سنبھالا لیا کوشال پریرا کے آئوٹ ہونے کے بعد تھاری مانے بیٹنگ کے لئے میدان میں آئے اور انہوں نے دلشان کے ساتھ مل کر سری لنکا کے سکور کو 82 تک پہنچا دیا لیکن انور علی نے تھاری مانے کی وکٹ حاصل کرلی جنہیں سرفراز احمد نے وکٹ کے پیچھے کیچ آئوٹ کیا
تھاری مانے کے آئوٹ ہونے کے بعد اپل ترنگا کھیلنے کے لئے آئے لیکن جس وقت سری لنکا کا سکور 111 ہوا تو وہ محمد حفیظ کی گیند پر سرفراز کے ہاتھوں کیچ ہوگئے انہوں نے 20 رنز بنائے لیکن ابھی سری لنکا کی ٹیم اس مشکل سے نکلنے کی کوشش کررہی تھی کہ دلشان جو اوپنر آئے تھے اور وکٹ پر ٹہرنے کی کوشش کر رہے تھے 38 رنز بنا کر محمد حفیظ کا شکار بن گئے انہیں حفیظ نے بولڈ کر دیا اس موقع پر سری لنکا کی ٹیم مشکلات میں گھری ہوئی نظر آئی لیکن کپتان میتھیوز اور چندی مل نے مزید وکٹیں گرنے کے سلسلے کو روک دیا اور ذمہ داری سے بیٹنگ کرنی شروع کی جس سے سری لنکا کی ٹیم ایک بار پھر سنبھلتی ہوئی محسوس ہوئی اور سری لنکا کا سکور ایک بار پھر بڑھنے لگا کپتان میتھیوز اور چندی مل کے درمیان ایک اچھی پاٹنر شپ قائم ہوئی اور سری لنکا کا سکور 200 رنز تک پہنچ چکا تھا کہ میتھیوز نے یاسر شاہ کی ایک گیند کو اونچا اٹھا دیا اور گیند سیدھی بابر اعظم کے محفوظ ہاتھوں میں چلی گئی اور اس طرح میتھیوز 38 رنز بنا کر آئوٹ ہوگئے
اس موقع پر سری لنکا کے بلے باز دنیش چندی مل وکٹ پر ڈٹے رہے اور انہوں نے سری لنکا کے باقی کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر سکور کو 255 رنز تک مقررہ پچاس اوورز میں پہنچا دیا اور اس وقت تک سری لنکا کے آٹھ کھلاڑی آئوٹ ہونے کا مزہ چکھ چکے تھے چندی مل نے 65 رنز کی ایک خوبصورت اننگز کھیلی جس کی وجہ سے سری لنکا کی ٹیم پاکستانی ٹیم کو 256 رنز کا ایک اچھا ہدف دینے میں کامیاب رہی سری لنکا کے بلے باز گو کہ 20 سے 38 رنز کی باریاں تو کھیلتے رہے لیکن سوائے چندی مل کے کوئی اور بیسٹمین زیادہ بڑا سکور نہ کرسکا پھر بھی دوسری اننگز کی پاکستان کی ماضی کی کارکردگی کے پیش نظر یہ ایک اچھا سکور سمجھا جارہا تھا بائولنگ کے شعبے میں بائولنگ ایکشن ٹیسٹ کروانے والے بالر محمد حفیظ پر آج قسمت مہربان نظر آئی اور انہوں نے بائولنگ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سری لنکا کے چار کھلاڑیوں کو پویلیئن کی راہ دکھائی جبکہ راحت علی کے حصے میں دو اور انور علی اور یاسر شاہ کے حصے میں ایک وکٹ آئی سرفراز نے وکٹ کے پیچھے ایک سٹمپ اور ایک کیچ کیا جبکہ فیلڈنگ کے ہیرو رضوان رہے جنہوں نے شاندار فیلڈنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین خوبصوت کیچ پکڑے اور بائونڈری لائن پر فل ڈائیو مار کر ایک کیچ کرنے کی بھرپور کوشش کی اگر یہ کیچ ہوجاتا تو یہ آج کا ایک خوبسورت ترین کیچ ہوتا۔
پاکستانی ٹیم نے 256 رنز کا تعاقب اظہر علی اور احمد شہزاد کی اننگز سے شروع کیا تو کچھ ذہنوں می یہ وسوسے جنم لے رہے تھے کہ معلوم نہیں پاکستان 256 رنز کا ہدف عبور کر بھی پائے گا یا نہیں پاکستان کی پہلی وکٹ 47 کر سکور پر گری جب اظہرعلی 21 رنز بنا کر میتھیوز کی گیند پر چندی مل کر ہاتھوں کیچ آئوٹ ہوگئے ان کی جگہ محمد حفیظ کھیلنے کے لئے میدان میں آئے لیکن کچھ دیر بعد احمد شہزاد محمد حفیظ کا ساتھ چھوڑ گئے اور وہ لکمل کی گیند پر چندی مل کے محفوظ ہاتھوں میں کیچ آئوٹ ہوگئے اب محمد حفیظ کا ساتھ دینے بابر اعظم آئے لیکن وہ بھی 25 رنز بنا سکے اور جب پاکستان کا سکور 123 رنز تھا تو بابر اعظم دلشان کی گیند پر 25 رنز بنا کر ایل بی ڈبلیو قرار پائے اب محمد حفیظ کا ساتھ دینے کے لئے تجربہ کار شعیب ملک آئے اور دونوں نے مل کر سکور میں تیزی سے اضافہ کرنا شروع کیا جس سے پاکستان کی ٹیم میچ میں واپس آگئی اور آج تو ایسا لگتا تھا کہ یہ دن محمد حفیظ کا دن ہے کیونکہ بولنگ کے بعد انہوں نے بیٹنگ بھی کمال کی کی اور 103 رنز کی انتہائی دلکش اننگز کھیلی جس میں چار چھکے اور دس بہترین چوکے شامل تھے ان کی اس اننگز کی وجہ سے پاکستانی ٹیم میچ پر حاوی ہوگئی محمد حفیظ کو پریرا نے اپنی ہی گیند پر خود ہی کیچ لے کر آئوٹ کردیا۔ جب حفیظ آئوٹ ہوئے تو پاکستان کا سکور 198 تھا اور 36 ویں اوور کی ایک گیند باقی تھی۔
اپنیاس میچ کو اگر محمد حفیظ کا میچ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ پہلے بائولنگ میں محمد حفیظ نے شاندار کارکردگی دکھائی اور دس اوور میں 41 رنز دے کر سری لنکا کے چار کھلاڑیوں کوآئوٹ کیا اور پھر بیٹنگ کی باری ائی تو سری لنکا کے بائولنگ اٹیک کو تہس نہس کردیا اور چار چھکوں اور دس چوکوں کی مدد سے 103 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جس نے میچ کا پورا نقشہ ہی پاکستان کے حق میں کردیا محمد حفیظ کی اس شاندار کارکردگی پر وہ مین آف دی میچ کے بجا طور پر مستحق ٹہرے۔ شاندار سینچری مکمل کرنے پر محمد حفیظ اللہ کے حضور سربسجود ہوگئے کیونکہ اس سے پہلے ان کے بائولنگ ایکشن کے ٹیسٹ کی وجہ سے اُن کے ناقدین اُن پر شدید انگلیاں اُٹھا رہے تھے اور ان کہ ٹیم میں موجودگی پر سوالیہ نشان کھڑے کر رہے تھے کہ ان کی ٹیم میں جگہ بھی بنتی ہے یا نہیں لیکن محمد حفیظ نے اس میچ میں اپنی بائولنگ اور بیٹنگ دونوں میں شاندار کارکردگی دکھا کر اپنے تمام ناقدین کی زبانوں پر تالے ڈال دئیے ہیں اور اب وہ ان پر تنقید کی بجائے اُن کی تعریفوں کے پُل باندھ رہے ہیں اسے کہتے ہیں ہوا کا رخ دیکھ کر پلٹا کھانا۔ محمد حفیظ آئوٹ ہوئے تو تجربہ کار شیعب ملک نے رضوان کے ساتھ مل کو پاکستانی ٹیم کو پہلے ون ڈے میں فتح سے ہمکنار کرادیا شیعب ملک نے بھی شاندار نصف سینچری بنائی اور جب پاکستانی ٹیم نے وننگز ہٹ لگائی تو شیعب ملک 55 رنز پر ناٹ آئوٹ تھے اوررضوان 20 رنز بنا کر ناٹ آئوٹ تھے
پاکستان کی طرف سے بائولنگ میں محمد حفیظ کے علاوہ راحت علی ، محمد عرفان، محمد انور اور یاسر شاہ نے اچھی کارکردگی دکھائی جبکہ سری لنکا کی طرف سے لکمل، پریرا، میتھیوز اور سری وردھنا نے ایک ایک کھلاڑی کو آئوٹ کیا۔ پاکستان نے اس پہلے ایک روزہ انٹرنیشنل میچ میں کامیابی حاصل کرکے چیمپینز ٹرافی میں شرکت کی اُمید پیدا کردی ہے لیکن پاکستان کو اس فتح کے نشے کے بعد بالکل ریلکس نہیں ہونا ہے بلکہ اگلے میچوں کے لئے اپنی پوری جان لڑانا ہوگی تاکہ پاکستانی ٹیم سری لنکا کے خلاف ون ڈے میچوں کی یہ سیریز جیت کر اپنی ون ڈے رینکنگ کو بہتر بنا سکے امید ہے پاکستانی ٹیم اگلے میچوں میں اسی جوش و جذبے اور ذمہ داری سے کھیلے گی اللہ تعالی پاکستانی ٹیم کو کامیابی اور کامرانی عطاء فرمائے آمین
سید محمد تحسین عابدی
Subscribe to:
Posts (Atom)






















































