Monday 19 September 2016

آئینہ

آئینہ


دل کا آئینہ

لوگوں نے دل کے آئینے کو کچھ اِس انداز سے توڑا
کرچیوں  کی  چبھن  سے   ہر وقت  لہو  رِستا  ہے
میں  سمجھا   زخموں  پہ  مرہم   لگانے  آئے  ہیں
مجھے  کیا  خبر  تھی  مرچیں  چھڑک  جائیں گے
کس میں اتنا حوصلہ ہے کہ کانچ کی کرچیوں سے
وہی   شفاف   آئینہ   دوبارہ   بنا   کر   دکھائے

تو کوئی ہے جو اس بات کو سوچے اور سمجھے اور کسی کے دل کے شفاف آئینے کو  کرچی کرچی نہ کرے۔ زخموں پر مرہم لگائے نہ کہ اس پر مرچیں چھڑک کر اور تکلیف کا باعث   بنے۔ یاد رکھو ٹوٹے ہوئے اور کرچی کرچی آئینے کو کبھی بھی جوڑ کر ویسا ہی شفاف آئینہ  بنانا تقریباً ناممکن ہے۔ کسی پر ظلم اور زیادتی کرنے سے پہلے بہت سوچو اور سمجھو شاید روشنی کا کوئی چراغ تمھے نظر آئے اور تم راستہ پائو۔ ذرا سوچو تو سہی تمھارے اپنے چگر کے ٹکڑے نفسیاتی مریض کیوں بن جاتے ہیں تمھارے رویے ہی تمھارے چگر پاروں کو اس حال تک پہنچاتے ہیں کیونکہ تم ان کی کمزوری اور بے بسی کا فائدہ اٹھاتے ہو اور ان کو اتنا توڑتے اور کچلتے ہو کہ وہ  درد سے تڑپتے رہتے ہیں اور کچھ کہ نہیں سکتے۔ تم ان کو ہنسی اور ٹھٹھوں میں اڑاتے ہو اور کہتے ہو ان کو تودنیا کا کچھ پتا ہی نہیں افسوس صد افسوس کاش تم سوچو اور سمجھو اور نصیحت پکڑو۔ اور اس دنیا کو بدلو۔
                               سید محمد تحسین عابدی
Blog prepared By:
Syed Muhammad Tehseen Abidi

No comments:

Post a Comment