Thursday, 13 August 2015

Resigantion Of MQM,

 Resignations of MQM are Charade   (Noora) Wrestling..................???? 

In national Assembly every day a new drama is created because our politicians do not want to address the issue of public such as, kasur child sexual abuse scandal, Terrorism, very bad law and order problems in Pakistan special in Karachi, target killing, sectarian killing,Kidnapping for ransom, Extortions, land china cutting, land mafia, corruption, load shading, price hike, women rights and protection, child labour, poverty of people of Thar and people of Pakistan, flood relief, future water planing like  kala bagh dam, bhasha dam and others dam, to take steps to save the people from Earthquakes in future.
When these real issue which belong to public are come in front of the politicians and parliamentarian or national assembly then the many butterflies are started flying in the stomach the respectable parliamentarians. It is very sad and poor situation of people of Pakistan. Before the issue of the noora wrestling of the resignations of MQM another drama was being plying in national assembly the de seating of  PTI members. By God this drama was end and the people of Pakistan wanted that the national assembly paying the full attention of  the kasur child sexual abuse scandal but Alas our speaker of national
Ayaz Sadiq said  that the Kasur child abuse scandal
is the problem of the province the speaker of national assembly who was just like a father of all Pakistanis could not feel any pain of the  people  of kasur and the people of Pakistan in his heart. People of Pakistan have right to ask the speaker of national assembly with respectfully sir, if the kasur child abuse scandal is the matter of province then why Sindh province's problems have discuses in the national assembly.
But the ears are closed at the voice of the people. Yet, the  drama of PTI  de seating was ended.  Another drama has been created on the stage of parliament. People of Pakistan want to know who is the writer of this drama script. The MQM has resign from national assembly, senate and provincial assembly. due to this process of MQM a big political crisis has created. After some time the cat was come out from the bag. A Political game was being played on the political arena.
On a TV Talk show which was set for this kind of political  activities.   Altaf Hussain sent a message to Army Chief General Raheel Sharif.It was surprising for  everyone that Altaf Hussain did not sent the message to the Government  of Pakistan or Prime minister Nawaz Sharif . He sent the direct message to General Raheel sharif.  This message showed, that the drama of resignations was set with a complete plan. The important thing was that message which was sent to General Raheel Sharif in a TV talk  show from Altaf Hussain and  those strong personalities who are afraid of operation.

Soon it was also confirmed by the statements of  Dr. Farooq Sattar. MQM wanted to keep door open on the issue of resignations.
Then to fill the color in this drama. There was raised the issue of the notification of resignations. First said that the notification has prepared then said there is no notification. There Spread confusion on the issue of notification of resignations.That people feel that the resignations are real. But Thank God people are aware with help of the media. people have understood this political game which has been played  from some clever political minds and  I think Altaf Hussain has been used by these minds.  Many corrupt forces which afraid from operation, think that their turn will come one by one so they are doing and playing these kinds of  political game.MQM would be return soon in assembly. Wait and see.


Thank, you very much my dear friends. Everyone has right to differing me. I will never mind, I only describe my own views. If you see some error, please forgive me because English is not my language. May God bless on everyone, who belongs to this world and may God keep all of you in peace.





Syed Muhammas Tehseen Abidi

Thursday, 30 July 2015

Tuesday, 28 July 2015

رب سے باتیں


رب سے باتیں

اے میرے رب! میری سُن کیونکہ تو سب کی سنتا ہے خواہ وہ نیک ہو یا گناہ گار، سچا ہو یا جھوٹا سب تجھ سے فریاد کرتے ہیں اور تیرے ہی در کے محتاج ہیں ہاں یہ تیری مرضی ہے جس کو جو چاہے طاقت عطاء کرے، معجزے عطاء کرے اور انبیاء اور ولی بنا دے اور جس پر چاہے کرم کرے اور مشکل کشاء بنا بنادے اور جس پر تو اپنا غضب نازل کرے اور اسے بھی طاقت عطاء کرے اور شیطان بنا دے اب ہر کوئی اپنی طاقت کو اپنی مرضی اور اختیار سے استمال کرتا ہے اور انسان چاہے تو اپنی مرضی اور اختیار سے تجھے اپنا دوست بنا لے اور تیری آزمائشوں سے خندہ پیشانی سے گزرے تو تُو اسے انعام میں جنت عطاء کرے گا اور انسان چاہے تو اپنی مرضی اور اختیار سے شیطان کو اپنا دوست بنا لے تو تُوسزا میں اسے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالے گا اور یقیناً تیرا وعدہ سچا ہے لیکن افسوس انسان تجھے اپنا دوست نہیں بناتا کیونکہ وہ تیری آزمائشوں سے گھبراتا ہے اور اُن کا سامنا نہیں کرنا چاہتا اسی لئے وہ شیطان کو اپنا دوست اور ساتھی بنا لیتا ہے اور اِس فانی دنُیا کو حاصل کرنے میں مصروف ہوجاتا ہے اور خسارے میں پڑجاتاہے روزِ قیامت انسان افسوس کرے گا کیونکہ اُس نے چند روزہ زندگی کی خاطر ا۔س دُنیا کو حاصل کیا اوراُس کو حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کی دھاندلی کی  کاش انسان سوچے اور سمجھے اور تیری آزمائشوں کو خندہ پیشانی سے قبول کرے۔
اے میرے پاک پروردگار! سب جانتے ہیں کہ جھوٹ تو جھوٹ ہوتا ہے خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی جھوٹ ہی کہلائےگا اوراسی طرح دھاندلی تو دھاندلی ہوتی ہے خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی میرے مالک سب جانتے ہیں اور شور مچاتے ہیں کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے اور سب سے بہتر تو جانتا ہے کیونکہ بہت شور مچا طوفان اُٹھا ایک دوسرے پر الزامات کی بارش ہوئی کہیں 35 پینچر کا شور تھا تو کہیں آر اوز کی دھاندلی کا طوفان تو کہیں ٹی وی کیمروں کی وہ تصاویر جس میں ایک ہی شخص کو بار بار ووٹ ڈالتے دکھایا گیا تھا سب نے کہا سب نے شور مچایا، سب چیخے اور سب چلائے دھرنے ہوئے ماڈل ٹائون میں چودہ لوگ مار دیئے گئے اسلام آباد میں پارلیمنٹ اور آئین کو مقدس کہا گیا جبکہ تو سب سے بہتر جانتا  ہے مقدس عمارتیں وہ ہوتی ہیں جہاں سے لوگوں کو انصاف ملے یا مقدس عمارتیں وہ ہیں جنہیں تو نے مقدس قرار دیا ہے جیسے خانہ کعبہ اور بیت المقدس,اور مسجد ضرار ہمیشہ گرائی جاتی ہے اسی طرح اے میرے رب عظیم! تو سب سے بہتر جانتا ہے کہ مقدس کتابیں وہ چار آسمانی کتابیں توریت، زبور، انجیل اور قرآن پاک جنیہں تُو نے نازل کیا ہے وہ نہیں جنہیں انسانوں نے تھوڑے سے نفع کی خاطر تبدیل کردیا یا مقدس وہ صحیفے ہیں جنہیں تُو نے انبیاء اور رسولوں پر نازل فرمایا جس کتاب میں تبدیلی ہوجائے  وہ کبھی مقدس نہیں ہوتی۔ 
اے ربِ کریم! اور ان لوگوں کو میں کیا کہوں کس سے فریاد کروں کس کے حضور اپنی درخواست پیش کروں سوائے تیرے کس سے فریاد کروں کیونکہ تو ہی ایک واحد اورعظیم ہستی ہے جو سب کی سنتا ہے اور سب کچھ جانتا ہے اے میرے مالک میں تو صرف اُن لوگوں پر افسوس ہی کرسکتا ہوں جنہیں غریبوں کے ٹیکس سے بنی ہوئی اس مقدس عمارت پر جسے وہ مقدس کہتے تھے پڑے ہوئے غریبوں کے کپڑے تو نظر آگئے لیکن افسوس انہیں لیکن انہیں گولیوں سے چھلنی جسم اور زمین پر گرتی ہوئی لاشیں نظر نہ آئیں اے میرے  رب! کاش وہ پیٹ سے سوچنے کی بجائے دماغ سے سوچتے لیکن افسوس لوگ تو دُنیا کے بندے اور شیطان کے دوست ہیں انہیں انصاف سے کیا مطلب اے ربِ عظیم  میں تو زمین کا حقیر سا ذرہ ہوں صرف اپنی فریاد تیرے حضور پیش کرسکتاہوں اب تُو چاہے تو سُن اور اگر نہ چاہے تو نہ سُن لیکن میں تو صرف اتنا جانتا ہوں تو سب کی سُنتا ہے اور سب کچھ جانتا ہے
اے میرے خدا! میں کیا کروں کہاں جائوں کس سے فریاد کروں میری روح صحرا میں چیخی اس نے سمندر پر پرواز کی اور فریاد سنائی وہ کھیتوں میں پھری اور اپنا درد بیان کرتی رہی وہ جنگلوں میں گئی اور درد کے ساتھ چیخی اور چلائی اس نے پہاڑوں میں سفر کیا اور اپنی درد بھری کہانی سنائی وہ وقت کے نمرودوں اور فرعونوں کے سامنے گئی اور انہیں تنبیہہ کی کے ظلم مت کرو اس نے ایوانوں کا چکر لگایا اور اپنی درر کو پیش کیا وہ عدالتوں میں پھری کہ انصاف ملے لیکن انصاف نہ ملا شاید نقار خانے میں طوطی کی آواز کوئی نہیں سُنتا افسوس اکثریت جب بے ایمان، منافق، جھوٹی اور ریاکار ہوجائے تو مجھے اے میرے مالک بتا نیک لوگ کہاں جائیں اور وہ کس سے فریاد کریں اور کس سے انصاف مانگیں کیونکہ سچ کو کہیں دفن کردیا جاتا ہے۔ اتنا جھوٹ بولا جاتا ہے کہ سچ کا گمان ہونے لگتا ہے سب جانتے ہیں کہ سچ کیا ہے کرپشن کون کررہا ہے دھاندلی سب کو پتا ہے کہ سب نے کی ہے سب جانتے ہیں کہ جس کا جہاں زور چلا اُس نے دھاندلی کی جس کا جہاں ہاتھ پڑتا ہے کرپشن کرتا ہے چھوٹا آدمی چھوٹی دھاندلی کرتا ہے بڑا آدمی بڑی دھاندلی کرتا ہے 
اسی طرح اے میرے رب! چھوٹا آد می چھوٹی کرپشن کرتا ہے بڑا آدمی بڑی کرپشن کرتا ہے اے مالکِ دوجہاں! افسوس اِس حمام میں تو سب ننگے ہیں اے مالکِ کائنات مجھے پلیز بتا میں کس سے پوچھوں میں کس سے فریاد کروں کون ہے جو تیرے سوا بتا سکتا ہے اور کون ہے جو تیرے سوا فریاد کو سُن سکتا ہے میں عاجزی سے پوچھتا ہوں کیا ایسا چور جو شیطان کا دوست ہو وہ کبھی اپنے قدموں کے نشان چھوڑے گا یا اپنے چوری کے ثبوت نہیں مٹادے گا افسوس لوگ چوری کرتے ہیں ڈاکہ ڈالتے ہیں لیکن اپنے قدموں کے نشان مٹا دیتے ہیں اپنے خلاف ثبوتوں کو ختم کردیتے ہیں کیونکہ اُن کے پاس ظاقت ہے اور وہ خریدنے کی طاقت رکھتے ہیں اور ہر چیز خرید سکتے ہیں اے ربِ کریم یہ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں یہ لوگوں کی عزت نفس خریدتے ہیں، یہ لوگوں سے اُن کی غربت خریدتے ہیں وہ غریب کیا کرے جس کے گھر میں  کھانے کو نہیں ہوگا وہ چند نوالوں کے عوض اِن کے ہاتھوں نہیں بکے گا خالی پیٹ تو کھانے کو مانگتا ہے ہر کوئی تو آزمائش کو نہیں سہہ سکتا۔
اے میرے مالک ہر کوئی تو بھوک برداشت نہیں کرسکتا ہر کوئی تو دُکھ نہیں جھیل سکتا کیا کریں جب بھوک اِن غریبوں کو ستاتی ہے اور اِن کے بچے جب بھوک سے بلکتے ہیں تو اے میرے رب افسوس یہ درندوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں دہشت گردی کا بازار گرم کرتے ہیں، ٹارگٹ کلنگ کرتے ہیں، اغوا برائے تاون کرتے ہیں، بھتہ خوری کا گھناونا جرم کرتے ہیں غرض ہر جرم اپنے پیٹ کی خاطر کرتے ہیں اور حصہ اپنے پیچھے ڈوریاں ہلانے والوں کو پہنچاتے ہیں اور جب پکڑے جاتے ہیں تو خود پھانسیاں چڑھ جاتے ہیں اوراور اپنے پیچھے ڈوریاں ہلانے والوں کو مظبوط سے مظبوط کرتے چلے جاتے ہیں اور ڈوریاں ہلانے والے اِن کو استعمال کرکے ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیتے ہیں کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ تم دہشت گرد کیوں بنے، تمہیں ٹارگٹ کلر کس نے بنایا، کس نے تمہیں اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری پر آمادہ کیا کون لوگ تھے تمھارے پیچھے جب تک تم قابل استمعال تھے تمہاری حفاظت کرتا رہا لیکن جیسے ہی تم استعمال کے قابل نہیں رہے انہوں نے تمہیں ٹشو پیپر کی طرح اُٹھا کر پھینک دیا یا تمہیں دُنیا سے اُٹھا دیا گیا ۔
یا تم قانون کے ہاتھوں پکڑے گئے تو قانون نے یہ نہیں پوچھا کہ تم نے قتل کیوں کیا تم دہشت گرد کیوں بن گئے، تم اپنی بہن کی عزت بچاتے ہوئے قاتل بن گئے تم اپنے پیٹ کی بھوک سہتے سہتے خودکش بمبار بن گئے کیونکہ تم نے یہ سوچا کہ میں تو چلو اِس دنیا سے چلا جائوں گا لیکن میرے بعد میرے بھوکے ماں باپ کو اور میرے بھوکے بچوں کو کھانے کے چند لقمے مل جائیں گے قانون نے یہ نہیں پوچھا کہ یہ سب کچھ تم نے کیوں کیا کون لوگ تمہاری ڈوریاں ہلا رہے تھے اے میرے پروردگار میں تجھ سے عاجزی کے ساتھ کہتا ہوں کہ اِس دُنیا کا قانون اندھا ہوتا ہے وہ جرم پر سزا دیتا ہے وہ یہ دیکھتا ہے کہ جرم ہوا ہے وہ یہ نہیں دیکھتا کہ جرم کیوں ہوا ہے اے میرے پروردگار! مجھے بتا کہ اگر کسی کی بہن، بیٹی، یا ماں کی عزت لُٹ رہی ہو تو وہ کیا کرے۔ اے میرے رب مجھے بتا کہ اگر کوئی شخص اور اُس کے ماں باپ اور بیوی اور بچے کئی دن سے بھوکے ہوں تو وہ کیا کرے۔ اے میرے مالک! مجھے بتا اگر کسی کو عدالت سے در در دھکے کھانے کے باوجود انصاف نہ ملے تو وہ کیا کرے۔ اے رب مجھ بتا کہ اگر کسی کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوکری نہ ملے تو وہ کیا کرے انصاف سے بتا ہر شخص اتنی آزمائش برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا وہ دہشت گرد بنتا ہے، ٹارگٹ کلر بنتا ہے، بھتہ خور بنتا ہے، یا اغوا برائے تاوان کا مجرم بنتا ہے اور اس کو اس راہ پر لگانے والے طاقت ور لوگ این ۔آر۔ او کرکے محفوظ رہتے ہیں اور دندناتے پھرتے ہیں۔
اے کائنات کے مالک اِن ریا کاروں، منافقوں، ڈراما بازوں اوردنُیا داروں نے اِس دنُیا کو جہنم بنادیا ہے وہ آنکھیں رکھتے ہیں پر دیکھ نہیں سکتے، وہ زبان رکھتے ہیں لیکن بول نہیں سکتے، وہ کان رکھتے ہیں پرسُن نہیں سکتے گویا کہ وہ اندھے گونگے اور بہرے ہیں۔ اے خدا وہ ظلم ہوتے دیکھتے ہیں لیکن اس کے خلاف اپنی زبان سے آواز بلند نہیں کرتے اور افسوس وہ اپنے کان بند کرلیتے ہیں اے میرے مالک مجھے بتا وہ لوگ جو نیک رہنا چاہتے ہیں اور سچائی کے راستے پر چلتے چلتے تھک سے گئے ہیں اُن کی آنکھیں ایک عرصے سے تیری رحمت کا انتظار کررہی ہیں کیونکہ اے میرے مالک میں نے سُنا ہے کہ نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ صرف بہتر لوگ تھے باقی مسلمان کہاں تھے میں لوگوں سے پوچھتا ہوں تو کسی کے پاس اس کا جواب نہیں ہوتا وہ بس ایک دوسرے پر الزا مات کی بارش کرکے اپنا دامن بچاتے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں نوح علیہ السلام نے لوگوں کو سچائی کی طرف بلایا اکثریت کہاں تھی، ابراہیم علیہ السلام نے لوگوں کو اے مالک تیری راہ کی طرف بلایا اکثریت کہاں تھی، لوط علیہ السلام نے لوگوں کو سچائی کا راستہ دکھایا اکثریت کہاں تھی، صالح علیہ السلام نے لوگوں کو سچے راستے کی طرف بلایا اکثریت کہاں تھی، شعیب علیہ السلام نے لوگوں کو ہدایت کی اکثریت کہاں تھی۔ موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو سیدھا راستہ دکھایا ان کی اکثریت نے ہمیشہ نافرمانی کی، زکریا علیہ السلام کو لوگوں کی اکثریت نے قتل کردیا، عیسیٰعلیہ السلام کو لوگوں کی اکثریت نے مخالفت کی اور ان ہی کی ایک شاگرد نے آپ کو پکڑوا دیا، رسول صلی علیہ والہ وسلم کو کفار کی اکثریت نے سخت اذیتیں دیں، حضرت علی علیہ السلام نے جب انصاف کا علم بلند کیا تو لوگوں کی اکثریت آپ کی مخالف ہوگئی۔
 حضرت امام حسین علیہ السلام کو سب چھوڑ گئے اور لوگوں کی اکثریت نے آپ کو شہید کردیا اور اے پاک پروردگار تُو تو اپنی پاک کتاب قرآن میں خود فرماتا ہے کہ اکثریت گمراہ ہے لیکن افسوس لوگ اکثریت کا راگ الاپتے ہیں، دھاندلی سب کرتے ہیں اور پھر ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کرتے ہیں افسوس جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہیں اور کوئی شرم محسوس نہیں کرتے ہیں اے میرے رب میں نہیں جانتا کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے ہاں میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ تو سب سے بہتر جاننے والا اور باخبر ہے تو اے میرے رب میں تجھ سے ہاتھ جوڑ کر التجا کرتا ہوں کہ ریت کے نیچے جو سچ دفن ہے ایسی ہوا چلا کہ سچ باہر آجائے کیونکہ لوگ اپنے قدموں کے نشانات مٹا دیتے ہیں، ثبوت اپنی طاقت کے بل پر ختم کردیتے ہیں اور لوگ اپنی جان کے خوف سے اندھے، گونگے اور بہرے بن جاتے ہیں اے میرے رب دیکھ یہ دُنیا ظلم و جور سے بھر گئی ہے بس لوگوں کو ہدایت عطاء فرما اور ان لوگوں پر جو کمزور کردیئے گئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور نازل کر اپنی تلوار کو جو ظالموں کے ظلم کا خاتمہ کرے اور عدل و انصاف کا سورج طلوع ہو مالک تیرے وہ بندے جو تیرے راستے پر چلنا چاہتے ہیں وہ سخت پریشان ہیں مالک اپنے نیک بندوں کی آنکھوں کو قوت عطاء کر تاکہ وہ دیکھ سکیں، ان کی زبان کو قوت عطاء کر تاکہ وہ بول سکیں اور ان کے کانوں کو سماعت کی قوت عطاء کر تاکہ وہ سُن سکیں اے میرے رب جو اندھے ہیں ان کو بینائی عطاء کر، جو گونگے ہیں اُن کو قوت گویائی عطاء کر اور جو بہرے ہیں اُن کو قوت سماعت عطاء کر اور امام قائم حضرت امام مہدی علیہ السلام کو اپنی تلوار عطاء فرما اور اُن کا ظہور فرما تاکہ اس دنیا سے ظلم ختم ہو آمین

العجل العجل العجل یا صاحب الزماں امام مہدی علیہ السلام
اگر کسی کو میری کسی بات  سے کوئی اختلاف ہے تو وہ اختلاف رکھ سکتا ہے کیونکہ اختلاف رائے ہر ایک کا حق ہے اسی طرح میرا بھی حق ہے کہ میں دوسروں سے اختلاف رکھ سکوں اگر کسی کو میری کسی بات سے دکھ پہنچا ہو تو اس کے لئے معذرت خواہ ہوں کیونکہ یہ میری اپنے نظریات ہیں  شاید کسی کو سمجھ آسکیں۔ 




سید محمد تحسین عابدی

پاکستان بمقابلہ سری لنکا ون ڈے سیریز


پاکستان بمقابلہ سری لنکا پانچواں ون ڈے انٹر نیشنل

پاکستان نے سیریز تین دو سے جیت لی

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پانچ میچوں کی سیریز کا آخری میچ دونوں ٹیموں کے لئے انتہائی اہم تھا پاکستان کی ٹیم اگر یہ میچ جیت جاتی تو اس کی پوزیشن چیمپین ٹرافی میں شرکت کے لئے اور بہتر ہو جاتی اسی طرح سری لنکا کی ٹیم کی یہ بھرپور کوشش تھی کہ وہ یہ میچ جیت کر اپنے عوام کے آنسو پونچھ سکے اسی وجہ سے جب دونوں ٹیمیں میدان میںاتریں تو پاکستانی ٹیم جو سیریز جیتنے کے نشے سے سرشار تھی کافی ریلکس تھی جو کہ پاکستانی ٹیم کے لئےخطرے کی گھنٹی تھی جبکہ سری لنکا کی ٹیم سیریز ہارنے کی وجہ زخم خوردہ تھی اور اس کی باڈی لینگویج کافی مختلف نظر آرہی تھی۔ ٹاس سری لنکا کی ٹیم نے جیت لیا اور ایک اچھی بیٹنگ وکٹ پر بیٹنگ کا فیصلہ کیا جوکہ ایک بہت اچھا اور درست فیصلہ تھا۔ کیونکہ اظہر علی بھی ٹاس جیت بیٹنگ کرنا چاہتے تھے لیکن یہ امید تھی کہ پاکستان کے بائولرز اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے لیکن پاکستانی کھلاڑی جو سیریز جیت کرریلکس ہوگئے تھے اسی وجہ سے وہ میچ میں وہ بہتر کارکردگی نہ دکھا سکے جس کی ان سے اُمید کی جارہی تھی۔
سری لنکا کے اوپنرز کوشال پریرا اور تلکا رتنے دلشان نے اننگز کا آغاز کیا اور دونوں بلے بازوں نے ابتدا سے ہی جارحانہ رویہ اپنایا اورپاکستانی بالروں کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا ادھر پاکستانی ٹیم جو سیریز جیتنے کی وجہ سے ریلکس ہو چکی تھی ان کے بالروں نے انتہائی ناقص بائولنگ کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے سری لنکا کے بلے بازوں نے وکٹ کے چاروں طرف خوبصورت سٹروک پلے کا مظاہرہ کیا اور ساتھ ساتھ ناممکن سنگل رنز لئے اور سنگل رن کو ڈبل میں کنورٹ کیا یہی وجہ ہے کہ سری لنکا کے اوپننگ بیسٹمینوں نے 164 رنز کی شاندار شراکت قائم کی اور پاکستانی بالروں نے وکٹ حاصل کرنے کے لئے مختلف تجربات شروع کردیئے جس کا اُلٹ اثر ہوا وہ اپنی صحیح لائن اور لینتھ قائم نہ رکھ سکے اور سری لنکا کی ٹیم نے اس موقع کا بھرپور فائدہ آٹھا اور تیزی کے ساتھ رنز میں اضافہ کیا۔
آخر خدا خدا کرکے سری لنکا کی پہلی وکٹ 164 کے سکور پر گری اور وہ بھی رن آئوٹ کی صورت میں تھی سری لنکا کے بلے باز دلشان احمد شہزاد کی ایک شاندار تھرو پر رن آئوٹ ہوگئے اس وقت تک دلشان اپنی نصف سینچری مکمل کرچکے تھے اور جب انہیں احمد شہزاد نے رن آئوٹ کیا تو اُن کا اپنا ذاتی سکور 62 رنز تھا دلشان کے آئوٹ ہونے کے بعد تھاری مانے کھیلنے کے لئے میدان میں آئے اور کوشال پریرا کے ساتھ مل کر سکور کو تیزی کے ساتھ آگے بڑھانا شروع کیا سری لنکا کا سکور جب 212 پر پہنچا تو کوشال پریرا آئوٹ ہوگئے لیکن آئوٹ ہونے سے پہلے وہ پاکستانی ٹیم کے بالروں کی خوب پٹائی کرچکے تھے اور اپنی شاندار سینچری بھی مکمل کرچکے تھے
جب کوشال پریرا عرفان کی گیند پر اظہرعلی کے ہاتھوں آئوٹ ہوئے تو اس وقت اُن کا سکور 116 رنز تھا انہوں نے انتہائی خوبصورت اننگز کھیلی اورسری لنکا کی پوزیشن کو بہت مظبوط کر دیا ان کے آئوٹ ہونے کے بعد چندی مل نے کریز سنبھالی لیکن دوسری طرف سے تھاری مانے 29 رنز بنا کر راحت علی کی گیند پر محمد رضوان کے ہاتھوں آئوٹ ہوگئے لیکن پھر کپتان میتھیوز میدان میں آئے لیکن جب سری لنکا کا سکور 254 رنز پر پہنچا تو چندی مل راحت علی کا شکار بن گئے انہوں نے 29 رنز بنائے  پھر کپتان میتھیوز اور سری وردھنا کھیل پر چھاگئے اور ان دونوں نے پاکستانی بالروں کی جم کر پٹائی کی اور کوئی پاکستانی بالراُن کے آگے بندھ نہ باندھ سکا سری لنکا نے 300 کا کا ہندسہ بھی کراس کر لیا اور اس کے بعد سری لنکا نے پیچھے مڑ کرنہیں دیکھا اور پاکستانی ٹیم پر چھکوں اور چوکوں کی بارش کردی پاکستانی فیلڈرز گیند کو بائونڈری سے باہر بے بسی کے عالم میں جاتا دیکھتے رہے کیونکہ پاکستانی بائولر اپنی لائن اور لینتھ بھول چکے تھے اور جب سری لنکا کے پچاس اوورز مکمل ہوئے توپاکستانی ٹیم کے سامنے369 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف کھڑا ہو چکا تھا۔  
سری لنکا کی ٹیم نے 368 رنز بنا چکی تھی اور اس کے صرف چار کھلاڑی آئوٹ ہوئے تھے۔ میتھوز 40 گیندوں پر 70 رنز بنا کر ناٹ آئوٹ تھے اور سری وردھنا 26 گیندوں پر 52 رنز پر ناٹ آئوٹ تھے ٹیم پاکستانی بائولر جو ہمیشہ اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں لیکن آج کے میچ میں وہ باکل آئوٹ اف فارم نظر آئے اور انور علی نے 71 ، محمد عرفان نے 72، یاسر شاہ نے 73 اور راحت علی نے 74 رنز دئیے راحت علی کے حصے میں دو وکٹیں اور محمد عرفان صرف ایک وکٹ حاصل کرسکے شعیب ملک کے 10 اوورز میں 44 رنز بنے جبکی عماد وسیم کے تین اوورز میں 27 رنز بنے پاکستانی بالروں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے پاکستانی ٹیم 369 رنز کے پہاڑ کے نیچے دب گئی۔
جب پاکستانی ٹیم نے اپنی اننگز کا آغاز کیا تو پاکستانی ٹیم کے سامنے ایک پہاڑ جیسا ناممکن ہدف تھا جس کو سر کرنا ناممکن نہیں تو بہت زیادہ مشکل ضرور تھا پاکستانی اوپنرز نے ابتدائی پانچ اوورز بہت محتاط ہو کر کھیلے لیکن اس کے بعد اظہرعلی اور احمد شہزاد نے اپنے سٹروک کھیلنے شروع کئے کیونکہ اُن پر 369 رنز کا پریشر تھا اس وجہ سے انہیں تیز کھیلنا تھا اسی کوشش میں احمد شہزاد ہٹ مارنے کے لئے وکٹ سے تھوڑا سر باہر آئے تھے کہ وکٹ کیپر چندی مل نے انتہائی چابکدستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں سٹمپ کردیا اس وقت احمد شہزاد کا سکور 18 رنز تھا احمد شہزاد کے آئوٹ ہونے کے بعد  محمد حفیظ کھیلنے کے لئے آئے ان سے کافی توقعات وابستہ تھیں لیکن دوسری طرف اظہر علی جو اچھا کھیل رہے تھے ایک غلط رن لینے کی کوشش میں رن آئوٹ ہوگئے یہ پاکستان کے لئے ایک بہت بڑا نقصان تھا لیکن ابھی محمد حفیظ اور سرفراز احمد سے امیدیں وابستہ تھیں اسی لئے محمد حفیظ اور سرفراز احمد نے تیز کھیلنے کی کوشش کی لیکن حفیظ کو میتھیوز نے ایل بی ڈبلیو آئوٹ کردیا 
حفیظ کے ائوٹ ہونے کے بعد شعیب ملک کھیلنے کے لئے آئے اور انہوں نے سرفراز کے ساتھ مل کر تیز کھیلنے کی کوشش کی اور سنگل کو ڈبل رنز میں ڈبل کرنے کی کوشش کی اور اسی کوشش میں سرفراز ایک سنگل رن کو ڈبل میں کنورٹ کرنے کوشش کررہے تھے کہ لکمل کی بائونڈی لائن سے ایک شاندار ڈائریکٹ تھرو پھینکی جو کہ ڈائریکٹ وکٹ پر لگی اور اس طرح سرفراز رنز آئوٹ ہوگئے سرفراز نے 27 رنز بنائے سرفراز کے آئوٹ ہونے کے بعد محمد رضوان اور شعیب ملک نے کوشش کی لیکن شعیب ملک گیارہ رنز بنا کرآئوٹ ہوگئے شعیب ملک کے آئوٹ ہونے کے بعد محمد رضوان نے کچھ مزاحمت کی اور انہوں نے 29 رنز بنائے
عماد وسیم 15، انور علی 11 یاسر شاہ 9 اور محمد عرفان صرف چار رنز بنا سکے اس طرح پاکستانی ٹیم کی پوری اننگز 203 رنز پر سمٹ گئی اور پاکستانی ٹیم کو 165 رنز کے بڑے مارجن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا پاکستانی ٹیم کی سیریز میں اتنی اچھی کارکردگی کے بعد اتنی بڑی شکست سے کرکٹ شائقین اور کرکٹ مبصرین کے ذہنوں میں کئی سوالات نے جنم لیا ہے اگر پاکستانی ٹیم کو اتنے بڑے مارجن سے شکست نہ ہوتی تو شاید لوگوں کے ذہنوں میں سوالات پیدا نہیں ہوتے پاکستانی ٹیم کی یہ روایت بھی رہی ہے کہ ایک دم بلندی پر جاتی ہے اور پھر ایک دم اُس کی کارکردگی نیچے کی طرف چلی جاتی ہے جس کی وجہ سے شائقین اچانک مایوس ہوجاتے ہیں اگر اس میچ میں مقابلہ ہوتا تو شاید پھر عوام مایوس نہ ہوتے۔
سری لنکا کی طرف سے بائولنگ شعبے میں سنانائکے نے تین، پریرا نے دو،میتھیوز، سری وردھنا اور گیمج نے ایک ایک وکٹ حاصل کی سری لنکا کی ٹیم اس فتح پر کافی خوش نظر آئی کیونکہ یہ ایک بڑے مارجن سے فتح تھی پاکستانی ٹیم نے پانچ میچوں کی یہ سیریز تین دو کے مارجن سے جیت لی اور اظہر علی کو سیریز کی ٹرافی ملی پاکستان کی ٹیم کی کارکردگی اس سیریز میں کافی آچھی رہی اور تمام کھلاڑویوں نے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا سوائے اس آخری ون ڈے میچ کے محمد حفیظ کی کاکردگی بہت اچھی رہی اور وہ مین آف دی سیریز اور پلیئر آف دی سیریز قرار پائے اب ٹی ٹوئنٹی سیریز شروع ہونے والی ہے اور امید ہے کہ پاکستانی ٹیم اچھی کارکردگی دکھائے گی۔


سید محمد تحسین عابدی

Flowers Gif


Beautiful Roses